حدیث نمبر: 982
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ بْنِ الْحَارِثِ اللَّخْمِيُّ الأَنْبَارِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي صَدَقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " يَا عِمْرَانُ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ ، قَالَ : قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لأَرْشَدِ أُمُورِي ، وَأَسْتَجِيرُكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ ، إِلا الْفَضْلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمران!“ میں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أُمُورِي وَأَسْتَجِيرُكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے کاموں کی طرف ہدایت چاہتا ہوں اور اپنی جان کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 982
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3483 | معجم صغير للطبراني: 953

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3483 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟ میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے ، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3483]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔

نوٹ:
(حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع نہیں ہے، نیز ’’شبیب بن شیبہ‘‘ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3483 سے ماخوذ ہے۔