معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: اسم اعظم کے ساتھ کی گئی دعا کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى آلِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَائِشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ أَحَدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَقَدْ جَلَسَ ، وَقَالَ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِنَفَرٍ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ : هَلْ تَدْرُونَ مَا دَعَا بِهِ الرَّجُلُ ؟ ، فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : لَقَدْ دَعَا بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِلا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلاهُمْ . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَسیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوعائش زید بن صامت بنو زریق کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے تو اس نے بیٹھ کر یہ دعا پڑھی: ”«اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ يَا مَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»“ ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت کو فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس شخص نے کن کلمات سے دعا کی؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی جس کے ذریعے اگر وہ پکارا جائے تو قبول فرماتا ہے۔ اور جب اس سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام» " اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما) "، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3544]
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما)