حدیث نمبر: 978
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ الْجَرَّاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكَاتِبُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى آلِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي عَائِشٍ زَيْدِ بْنِ الصَّامِتِ أَحَدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، وَقَدْ جَلَسَ ، وَقَالَ : "اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، يَا مَنَّانُ ، يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِنَفَرٍ مَعَهُ مِنْ أَصْحَابِهِ : هَلْ تَدْرُونَ مَا دَعَا بِهِ الرَّجُلُ ؟ ، فَقَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : لَقَدْ دَعَا بِاسْمِهِ الأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِلا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلاهُمْ . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوعائش زید بن صامت بنو زریق کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے تو اس نے بیٹھ کر یہ دعا پڑھی: ”«اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ يَا مَنَّانُ يَا بَدِيعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ»“ ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لیے کہ تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، نہیں ہے کوئی معبود برحق سوائے تیرے، تو بہت احسان کرنے والا ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے اور وجود میں لانے والا ہے، اے عظمت و جلال اور احسان والے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت کو فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس شخص نے کن کلمات سے دعا کی؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کے ساتھ دعا کی جس کے ذریعے اگر وہ پکارا جائے تو قبول فرماتا ہے۔ اور جب اس سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 978
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 893، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1862، 1863، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1301، قال الشيخ الألباني: صحيح ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1224، 7654، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1495، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3544، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3858، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12388، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1038
قال الهيثمي: إلا أن ابن إسحاق مدلس ، وإن كان ثقة ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 83)
قال ابن حجر: صدوق، لكنه مشهور بالتدليس عن الضعفاء والمجهولين وعن شر منهم، تعريف أهل التقديس: (1 / 168)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1301 | سنن ترمذي: 3544 | سنن ابي داود: 1495 | سنن ابن ماجه: 3858

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3544 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام» " اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما) "، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3544]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3544 سے ماخوذ ہے۔