حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ السَّرَّاجُ الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَنْصُورٍ الْمِشْرَقِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، "أُتِيَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِجُبْنَةٍ ، فَأَخَذَ السِّكِّينَ فَقَطَعَ ، وَقَالَ : كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، إِلا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غزوہ تبوک میں ایک پنیر لائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھری لے کر اس کو کاٹا، پھر فرمایا: ”اللہ کے حکم سے کھاؤ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3819 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´پنیر کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3819]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پنیر لائی گئی آپ نے چھری منگائی اور بسم الله پڑھ کر اسے کاٹا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3819]
فوائد ومسائل:
فائدہ: جو چیزیں کفار اور مشرکین نے تیار کی ہوں اور ان میں حرام کی آمیزش کا شایبہ نہ ہوتو وہ حلال اور طیب ہیں۔
کیونکہ چیزوں میں اصل حلت (حلال ہونا) ہی ہے، حرمت (حرام ہونے) کےلئے شرعی دلیل ضروری ہے۔
لیکن اقتصادی نقطہ نظر سے بطور مسلمان ہونے کے ہمیں غیر مسلموں کی تیار کردہ اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے اور اہل اسلام کی مصنوعات کو فروغ دینا چاہیے۔
فائدہ: جو چیزیں کفار اور مشرکین نے تیار کی ہوں اور ان میں حرام کی آمیزش کا شایبہ نہ ہوتو وہ حلال اور طیب ہیں۔
کیونکہ چیزوں میں اصل حلت (حلال ہونا) ہی ہے، حرمت (حرام ہونے) کےلئے شرعی دلیل ضروری ہے۔
لیکن اقتصادی نقطہ نظر سے بطور مسلمان ہونے کے ہمیں غیر مسلموں کی تیار کردہ اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے اور اہل اسلام کی مصنوعات کو فروغ دینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3819 سے ماخوذ ہے۔