حدیث نمبر: 974
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ النَّسَائِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلالِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ ، فَالَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْكَ ، مِنْهُ ، أَنَّكَ تَقُولُ : "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ، فَقَالَ : هَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، إِلا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ الْحَسَنِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کی دعا آج رات سنی ہے جو مجھے پہنچی ہے، وہ یہ ہے کہ آپ کہتے ہیں: ”«اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي» ”اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما اور میرے گھر میں وسعت فرما، اور جو تو نے مجھے رزق دیا ہے اس میں برکت فرما۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اس میں کچھ باقی بچا؟“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3500 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے “، آپ نے فرمایا: ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3500]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی: «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارك لي فيما رزقتني» ” اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے “، آپ نے فرمایا: ” کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3500]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے۔
نوٹ:
دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ’’سعید بن ایاس جریری‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور ’’عبد الحمید الھلالی‘‘ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفسِ اس دعا کے الفاظ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت سے تقویت پا کردعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: (غایة المرام رقم: 112)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے۔
نوٹ:
دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ’’سعید بن ایاس جریری‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور ’’عبد الحمید الھلالی‘‘ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفسِ اس دعا کے الفاظ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت سے تقویت پا کردعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو: (غایة المرام رقم: 112)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3500 سے ماخوذ ہے۔