حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "إِذَا خَافَ قَوْمًا ، قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ ، وَنَدْفَعُكَ فِي نُحُورِهِمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ ، إِلا أَبُو الْعَوَّامِ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، تَفَرَّدَ بِهِ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلامِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم سے کچھ ڈر محسوس کرتے تو یوں کہتے: ”«اللّٰهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ وَنَدْفَعُكَ فِي نُحُورِهِمْ» ”اے اللہ! ہم ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں اور تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1537 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´دشمن کا ڈر ہو تو کیا دعا پڑھے؟`
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» ” اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1537]
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» ” اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1537]
1537. اردو حاشیہ: دشمنوں اور بد طینت لوگوں کے شرور سے بچنے کےلئے مشروع مادی اسباب اختیار کرنا بھی توکل کا لازمی حصہ ہے۔ اور اللہ کی رحمت کا سائل رہنا مسلمان کا فریضہ اور اس کا شعار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1537 سے ماخوذ ہے۔