معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: رات کو سونے سے پہلے سورۂ سجدہ اور سورۂ ملک کی تلاوت کا بیان
حدیث نمبر: 967
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ الْقَلْزُمِيُّ بِمَدِينَةِ الْقَلْزُمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ابْنِ بِنْتِ مَطَرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ : الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، إِلا مُعَاوِيَةُ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ بِنْتِ مَطَرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو «الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةُ» اور «تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ» پڑھنے سے پہلے سوتے نہیں تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2892 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الملک کی فضیلت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2892]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب تک «الم تنزيل» اور «تبارك الذي بيده الملك» پڑھ نہ لیتے سوتے نہ تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 2892]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 585)
نوٹ:
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم: 585)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2892 سے ماخوذ ہے۔