حدیث نمبر: 961
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ زَكَرِيَّا بْنُ دِينَارٍ الْغَلابِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْغُدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ " رَأَى إِنْسَانًا بِهِ بَلاءٌ ، فَقَالَ : لَعَلَّكَ سَأَلْتَ رَبَّكَ فَلْيُعَجِّلْ لَكَ الْبَلاءَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَهَلا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ ، وَقُلْتَ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ "، لا يُرْوَى عَنْ بُرَيْدَةَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کسی مصیبت میں مبتلا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تو نے اپنے رب سے دعا کی ہو کہ وہ تجھ پر جلد مصیبت بھیج دے؟“ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنے رب سے عافیت کیوں نہیں مانگی؟ تو نے یہ کہنا تھا: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عنایت فرما اور آگ کے عذاب سے ہمیں محفوظ فرما۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 961
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 6118، والطبراني فى «الصغير» برقم: 860، وله شاهد من حديث أنس بن مالك ، أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2688، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3487، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12231، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 936، 941، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29952، والبزار فى «مسنده» برقم: 6679 ¤قال الهيثمي: فيه محمد بن زكريا الغلابي ضعفه الدارقطني وذكره ابن حبان في الثقات وقال يعتبر به إذا روى عن ثقة ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 290)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2688 | سنن ترمذي: 3487 | معجم صغير للطبراني: 1144

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3487 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´انگلیوں پر تسبیح گننے کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کی جو بیماری سے سخت لاغر اور سوکھ کر چڑیا کے بچے کی طرح ہو گئے تھے عیادت کی، آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنے رب سے اپنی صحت و عافیت کی دعا نہیں کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میں دعا کرتا تھا کہ اے اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا تھا وہ سزا مجھے تو دنیا ہی میں پہلے ہی دیدے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! پاک ہے اللہ کی ذات، تو اس سزا کو کاٹنے اور جھیلنے کی طاقت و استطاعت نہیں رکھتا، تم یہ کیوں نہیں کہا کرتے تھے: «اللهم آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3487]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو ہمیں دنیا میں بھی نیکی، اچھائی وبھلائی دے اور آخرت میں بھی حسنہ، نیکی بھلائی و اچھائی دے، اور بچالے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے۔
 (البقرة: 201)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3487 سے ماخوذ ہے۔