حدیث نمبر: 958
حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، "يَقُولُ بَعْدَ صَلاةِ الْفَجْرِ : اللَّهُمَّ ، إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا ، وَعِلْمًا نَافِعًا ، وَعَمَلا مُتَقَبَّلا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ ، إِلا النُّعْمَانُ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَامِرٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: ”«اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رِزْقًا طَيِّبًا وَعِلْمًا نَافِعًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا» ”اے اللہ! میں تجھ سے اچھا رزق، نافع علم اور قبول کیا جانے والا عمل مانگتا ہوں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 958
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9850، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 925، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27164، والحميدي فى «مسنده» برقم: 301، والطبراني فى«الكبير» برقم: 685، 686، والطبراني فى «الصغير» برقم: 735
قال الهيثمي: رواه الطبراني في الصغير ورجاله ثقات ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 111)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 925

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 925 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سلام پھیر نے کے بعد کیا پڑھے؟`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر میں سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا» " اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم، پاکیزہ روزی اور مقبول عمل کا سوال کرتا ہوں " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 925]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
یہ ایک جامع دعا ہے۔
رسول اللہ ﷺ اکثر ایسی دعایئں مانگتے تھے جو جامع ہوں اور تھوڑے الفاظ میں زیادہ فائدے کی چیزوں کی دعا ہوجائے۔

(2)
علم نافع سے مراد وہ علم ہے۔
جس پر انسان کو عمل کی توفیق نصیب ہو اور اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے۔
یعنی تحریر وتقریر اور اسوۃ حسنہ کے ذریعے سے دوسروں تک پہنچے تاکہ وہ بھی عمل کر کے اس شخص کی نیکیوں میں اضافے کا باعث ہوں۔

(3)
پاک رزق سے مراد حلال رزق ہے جو جائز طریقے سے کمایا گیا ہو۔

(4)
قبول کرنے والا عمل ہے جو خالص نیت سے اللہ کی رضا کےلئے کیا جائے۔
اور سنت کے مطابق ادا کیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 925 سے ماخوذ ہے۔