معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور پناہ چاہنے کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 953
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الضَّرِبُ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ وَرْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِلْيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، "إِنِّي أَسْلَمْتُ ، فَمَا أَدْعُو بِهِ ؟ ، قَالَ : قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لأَرْشَدِ أَمْرِي ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، إِلا عَدِيُّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں مسلمان ہو گیا ہوں تو میں کون سی دعا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں دعا کرو: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَهْدِيكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي» ”اے اللہ! میں تجھ سے اپنے بہت اچھے کام کی طرف راہنمائی مانگتا ہوں، اور اپنے نفس کی شر سے پناہ چاہتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3483 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: " اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟ " میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: " ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟ " انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: " اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے "، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3483]
عمران بن حصین کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے باپ سے پوچھا: " اے حصین! آج کل تم کتنے معبودوں کو پوجتے ہو؟ " میرے باپ نے جواب دیا سات کو چھ زمین میں (رہتے ہیں) اور ایک آسمان میں، آپ نے پوچھا: " ان میں سے کس کی سب سے زیادہ رغبت دلچسپی، امید اور خوف و ڈر کے ساتھ عبادت کرتے ہو؟ " انہوں نے کہا: اس کی جو آسمان میں ہے، آپ نے فرمایا: " اے حصین! سنو، اگر تم اسلام لے آتے تو میں تمہیں دو کلمے سکھا دیتا وہ دونوں تمہیں برابر نفع پہنچاتے رہتے "، پھر جب حصین اسلام لے آئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وہ دونوں کلمے سکھا دیجئیے جنہیں سکھانے کا آپ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3483]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔
نوٹ:
(حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع نہیں ہے، نیز ’’شبیب بن شیبہ‘‘ مجہول راوی ہیں)
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو مجھے میری بھلائی کی باتیں سکھا دے، اور میرے نفس کے شر سے مجھے بچا لے۔
نوٹ:
(حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع نہیں ہے، نیز ’’شبیب بن شیبہ‘‘ مجہول راوی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3483 سے ماخوذ ہے۔