حدیث نمبر: 947
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمُثَنَّى الْجُهَنِيُّ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْخَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ الْخَلِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَقْرِئْ أُمَّتَكَ مِنِّي السَّلامَ ، وَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ الْجَنَّةَ طَيِّبَةُ التُّرْبَةِ عَذْبَةُ الْمَاءِ ، وَأَنَّهَا قِيعَانٌ ، وَغِرَاسُهَا قَوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْقَاسِمِ ، إِلا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَلا عَنْهُ إِلا ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ مَرْفُوعًا ، إِلا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ابراہیم الخلیل علیہ السلام کو اس رات دیکھا جس میں مجھے اسراء کرایا گیا، تو انہوں نے کہا: اے محمد! اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہو، اور انہیں بتاؤ کہ جنت عمدہ مٹی کی ہے، میٹھے پانی والی ہے، مگر وہ کھلے خالی میدان ہیں جن میں درخت «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ» پڑھنے سے لگا دیے جاتے ہیں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الأدعية و الأذكار / حدیث: 947
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 3462، قال الشيخ الألباني: حسن ، والبزار فى «مسنده» برقم: 1991، 1992، 1993، والطبراني فى«الكبير» برقم: 10363، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4170، والطبراني فى «الصغير» برقم: 539 ¤قال الهيثمي: وفيه عبد الرحمن بن إسحاق أبو شيبة الكوفي وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 91)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3462

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3462 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے معراج کرائی گئی، اس رات میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اے محمد! اپنی امت کو میری جانب سے سلام کہہ دینا اور انہیں بتا دینا کہ جنت کی مٹی بہت اچھی (زرخیز) ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے، اور وہ خالی پڑی ہوئی ہے ۱؎ اور اس کی باغبانی: «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» سے ہوتی ہے ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3462]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جنت کو’’جنت‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں درخت ہی درخت ہیں، جنت کے معنی ہوتے ہی ’’باغات‘‘ ہیں تو پھر’’خالی پڑی ہوئی ہے‘‘ کا کیا مطلب؟ مطلب یہ ہے کہ اس کے درخت بندوں کے اعمال ہی کا ثمرہ ہیں، اللہ کو اپنی غیب دانی سے یہ معلوم ہے کہ کون کون بندے اپنے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہوں گے، سو اس نے ان کے اعمال کے بقدر وہاں درخت اگا دیئے ہیں، یا اُگا دے گا، اس لحاظ سے گویا جنت درختوں سے خالی ایک میدان ہے۔

2؎:
یعنی: بندہ جتنی بار کلمات کو کہتا ہے، اتنے ہی درخت پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3462 سے ماخوذ ہے۔