معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: اللہ کی پناہ چاہنے کی چند جامع دعاؤں کا بیان
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ النَّضْرِ أَبُو يَزِيدَ الْقُرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ حَرْبِ بْنِ زِيَادٍ الْكِلابِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ ، فَقَالَ : انْطَلِقْ بِنَا حَتَّى نَدْخُلَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا ، فَإِذَا هِيَ نَائِمَةٌ مُضْطَجِعَةٌ ، فَقَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، مَا يُنِيمُكِ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ ؟ قَالَتْ : مَا زِلْتُ عِنْدَ الْبَارِحَةِ مَحْمُومَةً قَالَ : فَأَيْنَ الدُّعَاءُ الَّذِي عَلَّمْتُكِ ؟ قَالَتْ : نَسِيتُهُ فَقَالَ : قُولِي : يَا حَيُّ ، يَا قَيُّومُ ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، وَلا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَلا إِلَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ "، لا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں تھے، جب سورج طلوع ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نکل گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے گئے یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے، ہم اندر گئے تو وہ لیٹی سوئی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فاطمہ! اس وقت کیوں سو رہی ہو؟“ انہوں نے کہا: مجھے رات سے بخار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دعا جو میں نے تجھے سکھائی وہ کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: میں بھول گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہو: ”«يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ وَلَا تَكِلْنِي إِلَىٰ نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَىٰ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ»““
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ یہ دعا پڑھتے: «يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث» ” اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3524]
وضاحت: 1؎:
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں۔
نوٹ:
1۔
(سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، دیکھیے (الکلم الطیب رقم:118)
نوٹ:
2۔
(متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’یزید بن ابان رقاشی‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو(صحیحہ رقم: 1536، اور اگلی سند)