معجم صغير للطبراني
كتاب الأدعية و الأذكار— اذکار کا بیان
باب: کسی مصیبت زدہ کو دیکھ کر دعا پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 935
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ جُمُعَةَ اللاذِقِيُّ ، وَأَبُو زُرْعَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مُبْتَلًى فَلْيَقُلِ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنِي عَلَيْكَ ، وَعَلَى كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ تَفْضِيلا ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَقَدْ شَكَرَ تِلْكَ النِّعْمَةَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُهَيْلٍ ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُطَرِّفٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی کو کسی آزمائش میں مبتلا دیکھے تو یوں کہے: ”«الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي فَضَّلَنِي عَلَيْكَ وَعَلَىٰ كَثِيرٍ مِنْ عِبَادِهِ تَفْضِيلًا»“ ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے تجھ پر اور اپنی بہت سی مخلوق پر بھی فضیلت عطا فرمائی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3432 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جب کوئی کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھے تو کیا کہے؟`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3432]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص کسی شخص کو مصیبت میں مبتلا دیکھے پھر کہے: «الحمد لله الذي عافاني مما ابتلاك به وفضلني على كثير ممن خلق تفضيلا» تو اسے یہ بلا نہ پہنچے گی۔“ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3432]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 206، 2737، وتراجع الألباني 228)
نوٹ:
(سند میں عبد اللہ بن عمر العمری ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 206، 2737، وتراجع الألباني 228)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3432 سے ماخوذ ہے۔