حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الضَّبِّيُّ الْجَمْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ، فِي بَنِي جَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ أَخِيهِ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "لا يَقُومُ مِنْ مَجْلِسِهِ حَتَّى يَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، ثُمَّ يَقُولُ : إِنَّهَا كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ رَافِعٍ ، إِلا مُقَاتِلٌ ، وَلا عَنْ مُقَاتِلٍ ، إِلا أَخُوهُ مُصْعَبٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا: ”«سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ»“ پڑھے بغیر اپنی مجلس سے نہ اٹھتے، پھر فرماتے: ”یہ مجلس کا کفارہ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4859 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مجلس کے کفارہ کا بیان۔`
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ” یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4859]
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: ” یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4859]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ تو بے مقصد گفتگو سے مبرا تھے، آپ کا یہ عمل اُمت کے لیئے تعلیم تھا، لہذا ہر مسلمان کو اس مبارک ورد کا عامل ہونا چاہیے۔
نیز اپنی مجالس کو لغویات سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ ان میں غیبت، تہمت جھوٹ قیل و قال اور قہقے نہ ہوں۔
اور یہ سمجھ کر کہ میں آخر میں دُعائے کفارہ مجلس پڑھ لون گا جو جی چاہے کہتا اور کرتا رہے ناجائز ہے نہ معلوم دُعا کا موقع ملے نہ ملے اور پھر قبول ہو یا نہ۔
رسول اللہ ﷺ تو بے مقصد گفتگو سے مبرا تھے، آپ کا یہ عمل اُمت کے لیئے تعلیم تھا، لہذا ہر مسلمان کو اس مبارک ورد کا عامل ہونا چاہیے۔
نیز اپنی مجالس کو لغویات سے پاک رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے کہ ان میں غیبت، تہمت جھوٹ قیل و قال اور قہقے نہ ہوں۔
اور یہ سمجھ کر کہ میں آخر میں دُعائے کفارہ مجلس پڑھ لون گا جو جی چاہے کہتا اور کرتا رہے ناجائز ہے نہ معلوم دُعا کا موقع ملے نہ ملے اور پھر قبول ہو یا نہ۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4859 سے ماخوذ ہے۔