معجم صغير للطبراني
كتاب الحدود— حدود کا بیان
باب: کسی کی زمین جائداد پر ناحق قبضہ کرنے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 932
حَدَّثَتْنَا سَمَانَةُ بِنْتُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى ابْنِ بِنْتِ الْوَضَّاحِ بْنِ حَسَّانَ الأَنْبَارِيَّةُ ، بِالأَنْبَارِ ، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ الدَّعَّاءُ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ السُّلَمِيِّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "مَنْ أَخَذَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شِبْرًا طَوَّقَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ "ترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مسلمانوں کے راستے سے ایک بالشت زمین بھی لی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2453 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2453. حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ ان کے اور کچھ لوگوں کے درمیان ایک جھگڑا تھا۔ حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے اس کا ذکر کیا گیاتو انھوں نے فرمایا: ابو سلمہ!زمین کے معاملے میں اجتناب کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اگر کسی نے ایک بالشت کے برابر بھی کسی کی زمین ہڑپ کی تو اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائےگا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2453]
حدیث حاشیہ: چوں کہ زمینوں کے سات طبق ہیں۔
اس لیے ظلم سے حاصل کی ہوئی زمین سات طبقوں تک طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔
زمین کے سات طبق کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔
ان کا انکار کرنے والا قرآن و حدیث کا منکر ہے۔
تفصیلات کا علم اللہ کوہے۔
﴿وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ﴾ (المدثر: 31)
امام شوکانی ؒفرماتے ہیں: و فیه أن الأرضین السبع أطباق کالسموات و هو ظاهر قوله تعالیٰ و من الأرض مثلهن خلافا لمن قال إن المراد بقوله سبع أرضین سبعة أقالیم۔
(نیل)
یعنی اس سے ثابت ہوا کہ آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات طبق ہیں جیسا کہ آیت قرآنی و منَ الأَرضِ مثلهُن میں مذکور ہے یعنی زمینیں بھی ان آسمانوں ہی کے مانند ہیں۔
اس میں ان کی بھی تردید ہے جو سات زمینوں سے ہفت اقلیم مراد لیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔
اس لیے ظلم سے حاصل کی ہوئی زمین سات طبقوں تک طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالی جائے گی۔
زمین کے سات طبق کتاب و سنت سے ثابت ہیں۔
ان کا انکار کرنے والا قرآن و حدیث کا منکر ہے۔
تفصیلات کا علم اللہ کوہے۔
﴿وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ﴾ (المدثر: 31)
امام شوکانی ؒفرماتے ہیں: و فیه أن الأرضین السبع أطباق کالسموات و هو ظاهر قوله تعالیٰ و من الأرض مثلهن خلافا لمن قال إن المراد بقوله سبع أرضین سبعة أقالیم۔
(نیل)
یعنی اس سے ثابت ہوا کہ آسمانوں کی طرح زمینوں کے بھی سات طبق ہیں جیسا کہ آیت قرآنی و منَ الأَرضِ مثلهُن میں مذکور ہے یعنی زمینیں بھی ان آسمانوں ہی کے مانند ہیں۔
اس میں ان کی بھی تردید ہے جو سات زمینوں سے ہفت اقلیم مراد لیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2453 سے ماخوذ ہے۔