حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَتْلُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اللہ کے نزدیک ایک مؤمن کا قتل قیامت کے دن پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بڑا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3991 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے " " ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3991]
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی مومن کا (ناحق) قتل اللہ کے نزدیک پوری دنیا تباہ ہونے سے کہیں زیادہ بڑی چیز ہے " " ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ابراہیم بن مہاجر زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3991]
اردو حاشہ: یعنی اگر دنیا مومنین کے بغیر فرض کر لی جائے تو دنیا و مافیہا کی تباہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مومن کی جان ناحق ضائع ہونے سے ہلکی ہے۔ یا کوئی بالفرض ساری دنیا جو مومنین سے خالی فرض کر لیا جائے، کو ہلاک کر دے تو اس کا گناہ ایک مومن کے ناحق قتل کے گناہ سے بہت کم ہے۔ مقصد مومن اور ایمان کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے جسے اس فرضی صورت سے ظاہر کر دیا گیا ہے۔ عرف میں یہ انداز عام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3991 سے ماخوذ ہے۔