حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِيُّ ابْنِ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبُو غَالِبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ الزِّمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا ، وَكَانَتْ حَامِلا ، فَأَخَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَتْ ، ثُمَّ أَمَرَهَا فَشُدَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ وَرَجَمْتَهَا ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَ بِهَا سَبْعُونَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا ؟ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَيُّوبَ ، إِلا عُبَيْدُ اللَّهِسیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور زنا کا اقرار کیا، وہ حاملہ تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو وضع حمل تک مؤخر کر دیا۔ پھر اس کے متعلق حکم دیا تو اس کے کپڑے کس دیے گئے، پھر اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، پھر اس پر نماز پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا اور آپ نے اس کو رجم کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایسی توبہ مدینے کے ستر آدمی کریں تو ان کی توبہ قبول ہو جائے گی، کیا اس سے افضل تجھے کوئی چیز مل سکتی ہے کہ اس نے سخاوت کی یعنی جان دے دی؟“
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: " اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا "، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: " اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ (کی شریعت کے پاس و لحاظ میں) اپنی جان (تک) قربان کر دی۔" [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1959]
➋ ’’بچہ جن لیا" جننے کے فوراًً بعد رجم نہیں کیا گیا بلکہ دیگر روایات میں ہے جب بچہ اس کے دودھ سے بے نیاز ہو گیا اور روٹی کھانے لگا۔ قربان جائیں ایسے شفیق و کریم نبی پر۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔
➌ شادی شدہ عورت اگر زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو بھی رجم کیا جائے گا جس طرح مرد کو رجم کیا جاتا ہے۔
➍ حاملہ عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا جب تک وضع حمل نہ ہو جائے اور بچہ دودھ کے علاوہ کچھ کھانے پینے لگ جائے۔
➎ کپڑے باندھ لینا مستحب ہے تاکہ بے پردگی نہ ہو۔
➏ قاضی یا حاکم کا رجم میں شرکت کرنا ضروری نہیں۔
➐ گناہ کیے ہوئے زیادہ عرصہ گزر جائے تو اس سے حد ساقط نہیں ہو جاتی بلکہ جب بھی عدالت میں کیس ثابت ہو گیا تو حد قائم کی جائے گی۔
➑ حد لگنے کے بعد آدمی کو اس گناہ کا طعنہ نہیں دیا جا سکتا کیونکہ حد گناہ کو ختم کر دیتی ہے، اب وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے وہ گناہ کیا ہی نہیں۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1435]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ عورتوں پر حد جاری کرتے وقت ان کے جسم کی سترپوشی کا خیال رکھنا چاہئے۔
2؎:
مسلمانوں کے دیگر اموات کی طرح جس پر حد جاری ہو اس پربھی صلاۃِ جنازہ پڑھی جائے گی، کیونکہ حد کا نفاذ صاحب حد کے لیے باعث کفارہ ہے، اس پر جملہ مسلمانوں کا اتفاق ہے، یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں نبی اکرمﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اس تائبہ کے توبہ کی کیا اہمیت ہے اسے واضح کیا۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر زنا کا اعتراف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دئیے گئے، پھر اس کو رجم کیا، اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2555]
فوائد و مسائل:
(1)
کپڑے جسم پراچھی طرح سمیٹ کر باندھ دینے کا مقصد یہ ہے کہ عورت کے جسم کی بے پردگی نہ ہو۔
(2)
جسے حد لگی ہو اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا چاہیے۔