حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَطَّةَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عَبْدَوَيْهِ السِّنْدِيُّ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بِالزِّنَا أُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ زِيَادِ بْنِ فَيَّاضٍ ، إِلا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے غلام کو زنا کی تہمت لگائے تو قیامت کے دن اس پر تہمت کی حد لگائی جائے گی۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الحدود / حدیث: 919
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6858، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1660، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8201، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7312، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5165، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1947، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 15897، 17227، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3123، والطبراني فى «الصغير» برقم: 193، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9697، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 190، 191»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6858 | صحيح مسلم: 1660 | سنن ترمذي: 1947 | سنن ابي داود: 5165 | بلوغ المرام: 1052

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6858 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6858. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو القاسم ﷺ سے سنا: آپ فرما رہے تھے: جس نے اپنے غلام پر تہمت لگائی جبکہ وہ اس تہمت سے بری ہو تو اسے قیامت کے دن کوڑے مارے جائیں گے ہاں، اگر غلام ایسا ہو جیسا اس نے کہا تو سزا نہیں ہوگی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6858]
حدیث حاشیہ:
(1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مہلب کے حوالے سے لکھا ہے: جمہور اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ آزاد آدمی جب غلام پر تہمت لگائے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ حدیث میں ہے کہ تہمت لگانے والے کو قیامت کے دن سزا دی جائے گی اور کوڑے مارے جائیں گے۔
اگر دنیا میں اس پر حد لاگو ہوتی تو حدیث میں اس کا ضرور ذکر کیا جاتا جیسا کہ آخرت کی سزا کا ذکر ہے۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں اجماع کا دعویٰ محل نظر ہے کیونکہ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ام ولد پر تہمت لگانے پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔
(فتح الباري: 229/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6858 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1660 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنے غلام پر زنا کا الزام عائد کیا، اس پر قیامت کے دن حد قائم کی جائے گی، الا یہ کہ اس نے جو کچھ کہا، ویسا ہی تھا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4311]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اگر کوئی آقا اپنے غلام پر زنا کی تہمت عائد کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، تو اس کی آزادی کے شرف و احترام کی خاطر، بالاتفاق دنیا میں اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی، چاہے وہ مکمل طور پر غلام ہو یا مکاتب، مدبر اور ام الولد ہو، ہاں قیامت کے دن، وہ حد کا مستوجب ہو گا، لیکن اگر دوسرے کی ام الولد پر تہمت لگاتا ہے، تو پھر حضرت ابن عمر، حسن بصری، اور اہل ظاہر کے نزدیک اس پر حد قائم کی جائے، اگر اپنی ام ولد پر تہمت لگاتا ہے، تو پھر حسن بصری کا موقف بھی یہی ہے کہ اس پر حد نہیں، اس طرح دوسرے کے غلام پر الزام تراشی میں بھی حد نہیں ہے، تعزیر و توبیخ ہے، آخرت میں مؤاخذہ ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1660 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1947 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خادم کو مارنا پیٹنا اور اسے گالی دینا اور برا بھلا کہنا منع ہے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ۱؎ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1947]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ ﷺ ایک دن ستر مرتبہ اور بعض روایات سے ثابت ہے کہ سومرتبہ استغفار کرتے تھے، اسی لحاظ سے آپ کو ’’نبي التوبة‘‘ کہاگیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1947 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5165 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5165]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺکی ایک صفت نبي التوبة ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس اُمت کی توبہ ندامت اور الفاظ سے قبول کرلی جاتی ہے۔
جبکہ سابقہ امتوں میں بعض اوقات اپنے آپ کو قتل کرنے سے قبول ہوتی تھی۔
ایک معنی یہ بھی لکھے گئے ہیں۔
کہ اس سے مراد ایمان وعمل ہے۔
جبکہ انسان نے کفر وفسق سے رجوع کیا ہو۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5165 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1052 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´تہمت زنا کی حد کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے (یعنی وہ تہمت سچی ہو)۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1052»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الحدود، باب قذف العبيد، حديث:6858، ومسلم، الأيمان، باب التغليظ علي من قذف مملوكه بالزني، حديث:1660.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو مالک اپنے غلام پر تہمت لگاتا ہے تو دنیا میں اس پر کوئی حد نہیں ہے‘ اسے قیامت کے روز اللہ رب العالمین ہی سزا دے گا۔
اور اگر تہمت سچی ہوگی تو پھر مالک بری ٔالذمہ ہوگا اور غلام کو جرم کی سزا دی جائے گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1052 سے ماخوذ ہے۔