معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: قبیلہ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کی افضلیت کا بیان
حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا أَبُو عَجِيبَةَ الْمُسْتَمْلِي الْحَافِظُ الْحَضَرِيُّ الْمِصْرِيُّ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكَرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "أَسْلَمُ ، وَغِفَارٌ ، وَمُزَيْنَةُ ، وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، وَغَطَفَانَ ، وَبَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي الأَشْهَبِ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ النَّخَعِيِّ الْكُوفِيِّ ، إِلا إِسْمَاعِيلُ . تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3515 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3515. حضرت ابو بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمھیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’مذکورہ قبیلے، بنوتمیم، بنو اسد، بنو عبدللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3515]
حدیث حاشیہ: جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3515 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3515 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3515. حضرت ابو بکر ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’تمھیں معلوم ہے کہ جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار قبائل بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنوعامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘ ایک آدمی نے کہا: یہ قبیلے تو نقصان میں رہے۔ آپ ﷺ نےفرمایا: ’’مذکورہ قبیلے، بنوتمیم، بنو اسد، بنو عبدللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3515]
حدیث حاشیہ:
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ ﷺ کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
مذکور قبائل قابل تعریف اس لیے قراردیے گئے کہ انھوں نے بہت جلد اسلام قبول کرلیا اور بہترین اخلاق کے حامل تھے، نیز ان کے دل نرم اور گداز تھے۔
اس کے برعکس بنو اسد وغیرہ رسول اللہ ﷺ کے بعد طلحہ بن خویلد کے ساتھ مل کر مرتد ہوگئے تھے اور بنوتمیم بھی مدعیہ نبوت سجاح کے ساتھ مل کر دین اسلام سے پھر گئے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ان قبائل کے مقابلے میں جہینہ، مزینہ، اسلم اورغفار کو بہتر قراردیاہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3515 سے ماخوذ ہے۔