معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی فضیلت و عظمت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ كِسَاءٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّجَّارُ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلاثٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، "هَذَا مَقَامُ إِبْرَاهِيمَ لَوِ اتَّخَذْنَاهُ مُصَلًّى ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 ، وَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ حَجَبْتَ نِسَاءَكَ فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ سورة الأحزاب آية 53 ، وَقُلْتُ فِي أُسَارَى بَدْرٍ : اضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ ، فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَهُ ، فَأَشَارُوا عَلَيْهِ بِأَخْذِ الْفِدَاءِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الأَرْضِ سورة الأنفال آية 67 "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، إِلا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّجَّارُ الرَّازِيُّ الإِمَامُ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْعَلاءُ بْنُ سَالِمٍسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنے رب کے ساتھ تین باتوں میں موافقت کی، ایک تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! کاش کہ ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: «وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» (البقرة: 125) ”تم مقام ابراہیم کو جائے نماز بنا لو۔“ دوسری بات یہ تھی، میں نے کہا: کاش کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کو پردا کرائیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہر اچھا اور برا آدمی آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے پردے کی آیت نازل فرما دی: «وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ» (الأحزاب: 53) ”جب تم ان سے کچھ سامان مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔“ تیسری بات یہ تھی، میں نے کہا: بدر کے قیدیوں کی گردنیں اڑا دو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے مشورہ لیا تو انہوں نے فدیہ لینے کا مشورہ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَىٰ حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ» (الأنفال: 67) ”کسی نبی کے لیے مناسب نہیں کہ اس کے لیے قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں خون ریزی کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیں (تو بہتر ہو)؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ” اور تم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ “ (سورة البقرة: 125)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1009]
فوائد و مسائل:
(1)
مقام ابراہیم ؑ سے مراد وہ پتھر ہے۔
جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم ؑ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی تھی اس پتھر میں حضرت ابراہیم ؑ کے قدموں کے نشان ہیں۔
(2)
طواف کے بعد مقام ابراہیم ؑ کے قریب دو رکعت نماز ادا کرنی چاہیے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ تشریف لائے۔
بیت اللہ کے گرد سات چکر لگا کرطواف کیا۔
مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور صفا مروہ کے درمیان چکر لگائے (سعی کی) (صحیح بخاري، الصلاۃ، باب قوله تعالیٰ، ﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ (حدیث: 395)
(3)
مقام ابراہیم علیہ السلام کے قریب نماز ادا کرتے وقت منہ کعبہ کی طرف ہی کرنا چاہیے۔
بعض ناواقف لوگ مقام ابراہیم کی طرف منہ کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔
اگر کعبہ کی طرف چہرہ نہ رہے یہ درست نہیں کیونکہ قبلہ تو کعبہ شریف کی عمارت ہی ہے۔
(4)
اگر مقام ابراہیم کے قریب جگہ نہ ملے۔
تو مسجد حرام میں کہیں بھی دو رکعت نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
(5)
اس میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت ہے۔
کہ ان کے دل میں وہی خواہش پیدا ہوئی۔
جس کا حکم اللہ تعالیٰ نازل فرمانے والا تھا۔
اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ایسی ہیں کہ احکام نازل ہونے سے پہلے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کہ دل میں خواہش پیدا ہوئی اور آسمان سے اسی کے مطابق احکام نازل ہوگئے۔ (صحیح البخاري، الصلاۃ، باب ما جاء فی القبلة۔
۔
۔
الخ، حدیث: 402)