معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ الْبَصْرِيُّ ابْنُ أَخِي الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيِّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ حَاتِمٍ الأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ ، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ رِجَالَ الأَنْصَارِ وَنِسَاءَهُمْ قَدْ أَتْحَفُوكَ غَيْرِي ، وَلَمْ أَجِدْ مَا أُتْحِفُكَ إِلا ابْنِي هَذَا ، فَاقْبَلْ مِنِّي يَخْدُمْكَ مَا بَدَا لَكَ قَالَ : فَخَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ ، فَلَمْ يَضْرِبْنِي ضَرْبَةً قَطُّ ، وَلَمْ يَسُبَّنِي ، وَلَمْ يَعْبِسْ فِي وَجْهِي ، وَكَانَ أَوَّلُ مَا أَوْصَانِي بِهِ ، أَنْ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، اكْتُمْ سِرِّي تَكُنْ مُؤْمِنًا ، فَمَا أَخْبَرْتُ بِسِرِّهِ أَحَدًا ، وَإِنْ كَانَتْ أُمِّي ، وَأَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلْنَنِي أَنْ أُخْبِرَهُنَّ بِسِرِّهِ فَلا أُخْبِرُهُنَّ وَلا أُخْبِرُ بِسِرِّهِ أَحَدًا أَبَدًا ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يُزَدْ فِي عُمْرِكَ وَيُحِبَّكَ حَافِظَاكَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تَبِيتَ إِلا عَلَى وُضُوءٍ فَافْعَلْ ، فَإِنَّهُ مَنْ أَتَاهُ الْمَوْتُ وَهُوَ عَلَى وُضُوءٍ أُعْطِيَ الشَّهَادَةَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لا تَزَالَ تُصَلِّي فَافْعَلْ فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ لا تَزَالُ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِيَّاكَ وَالالْتِفَاتَ فِي الصَّلاةِ ، فَإِنَّ الالْتِفَاتَ فِي الصَّلاةِ هَلَكَةٌ ، فَإِنْ كَانَ لا بُدَّ فَفِي التَّطَوُّعِ لا فِي الْفَرِيضَةِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ ، وَافْرُجْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ ، وَارْفَعْ يَدَيْكَ عَلَى جَنْبَيْكَ ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَكُنْ لِكُلِّ عُضْو مَوْضِعَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَنْظُرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ لا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِذَا سَجَدْتَ فَلا تَنْقُرْ كَمَا يَنْقُرُ الدِّيكُ ، وَلا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ ، وَلا تَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْكَ افْتِرَاشَ السَّبْعِ ، وَافْرِشْ ظَهْرَ قَدَمَيْكَ الأَرْضَ ، وَضَعْ إِلْيَتَيْكَ عَلَى عَقِبَيْكَ فَإِنَّ ذَلِكَ أَيْسَرُ عَلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي حِسَابِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ بَالِغْ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ تَخْرُجْ مِنْ مُغْتَسَلِكَ لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ وَلا خَطِيئَةٌ ، قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي ، مَا الْمُبَالَغَةُ ؟ ، قَالَ : تَبُلُّ أُصُولَ الشَّعْرِ ، وَتُنَقِّي الْبَشَرَةَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ إِذَا قَدَرْتَ أَنْ تَجْعَلَ مِنْ صَلَوَاتِكَ فِي بَيْتِكَ شَيْئًا فَافْعَلْ فَإِنَّهُ يُكْثِرُ خَيْرَ بَيْتِكَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ فَلا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ، إِلا سَلَّمْتَ عَلَيْهِ تَرْجِعُ وَقَدْ زِيدَ فِي حَسَنَاتِكَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُمسِيَ وَتُصْبِحَ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لأَحَدٍ فَافْعَلْ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِذَا خَرَجْتَ مِنْ أَهْلِكَ فَلا يَقَعَنَّ بَصَرُكَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ ، إِلا ظَنَنْتَ أَنَّ لَهُ الْفَضْلَ عَلَيْكَ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ ، إِنْ حَفِظْتَ وَصِيَّتِي فَلا يَكُونَنَّ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ قَالَ لِي : يَا بُنَيَّ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ سُنَّتِي وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ "، لا يُرْوَى عَنْ أَنَسٍ بِهَذَا التَّمَامِ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ مُسْلِمٌ الأَنْصَارِيُّ وَكَانَسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینے تشریف لائے تو میں اس وقت آٹھ سال کا تھا، تو میری ماں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ! میرے علاوہ انصار کے مردوں اور عورتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے پیش کیے گئے، مگر میرے پاس تو کوئی ایسا تحفہ نہیں جو آپ کی خدمت میں پیش کروں، ہاں میرے پاس یہ ایک میرا بیٹا ہے، اس کو آپ قبول فرما لیجیے، آپ جو بھی فرمائیں گے یہ آپ کی خدمت بجا لائے گا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دس سال خدمت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھے نہیں مارا، اور نہ ہی کبھی گالی دی، اور نہ کبھی ماتھے پر شکن ڈالی، سب سے بہتر جو وصیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمائی یہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! میرا بھید چھپا کر رکھنا تو تو مؤمن ہو جائے گا۔“ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھید کبھی کسی کو نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی نہیں بتایا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھید کے متعلق پوچھتیں تو میں انہیں بھی نہیں بتاتا، اور میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”بیٹا! وضو مکمل کرو تیری عمر میں اضافہ ہو گا، اور تیرے فرشتے محافظ و نگہبان تجھ سے محبت کریں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! اگر طاقت رکھتے ہو کہ باوضو ہو کر سو جاؤ تو اس طرح ضرور کرو کیونکہ جس کو باوضو حالت میں موت آجائے تو اسے شہادت کا مرتبہ ملے گا۔“ پھر فرمایا: ”اگر ہمیشہ نماز ادا کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو ضرور پڑھو کیونکہ فرشتے ہمیشہ تم پر رحم کی دعا کرتے رہیں گے جب تک تم نماز پڑھتے رہو گے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! نماز میں ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچو کیونکہ نماز میں ادھر ادھر توجہ کرنا ہلاکت ہے، اگر ضروری ہو تو نفل میں کر لو، فرض نماز میں ایسے نہ کرنا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلی کو اپنے گھٹنوں پر رکھو، اور اپنی انگلیاں کھول کر رکھو، اور اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے علیحدہ رکھو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو ہر جوڑ اپنی اپنی جگہ پر آجانا چاہیے، کیونکہ جو شخص رکوع اور سجود میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی طرف نظر نہیں فرمائیں گے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب سجدہ کرو تو مرغ کی طرح ٹھونگے نہ مارو، اور اس طرح نہ بیٹھو جس طرح کتا بیٹھتا ہے، اور درندے کی طرح اپنی کلائیوں کو بچھاؤ بھی نہیں، اور اپنے پاؤں کی پشت کو زمین پر بچھا دو، اور اپنے سرین اپنی ایڑیوں پر رکھو، کیونکہ اس طرح نماز ادا کرنا تیرے حساب کو قیامت کے روز تجھ پر آسان کر دے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! جنابت کا غسل اچھی طرح کرو، جب تم غسل خانے سے باہر آؤ گے تو تم پر کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ باقی نہ رہے گا۔“ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، غسل میں مبالغہ کرنا اور اچھی طرح کرنا کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بالوں کی جڑوں کو تر کرو، اور جسم کو صاف کرو۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! اگر تم اپنی نفلی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے مخصوص کر سکو تو ضرور کرو کیونکہ اس طرح تمہارے گھر میں خیر و برکت بہت زیادہ ہو جائے گی۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب اپنے گھر میں آؤ تو ان کو سلام کہو، یہ تم پر اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہو گی۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب تم اپنے گھر سے نکلو تو اہل قبلہ سے جس پر بھی تمہاری نظر پڑے تو اس کو سلام کہو، اس طرح تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہو گا۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! اگر تم اپنی صبح و شام اس طرح بنا سکو کہ تمہارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا کھوٹ نہ ہو تو ضرور کرو۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! جب تم گھر سے نکلو تو تمہاری نظر اہل قبلہ سے جس پر بھی پڑے تم اسے اپنے سے افضل اور برتر سمجھو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا! میری وصیت کی حفاظت کرنا، اور موت سے زیادہ پیاری چیز تیرے نزدیک اور کوئی نہیں ہونی چاہیے۔“ پھر فرمایا: ”بیٹا! یہ میری سنت ہے، اور جو شخص میری سنت کو زندہ کرے گا تو گویا اس نے مجھ سے محبت کی، اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ قیامت کے روز میرے ساتھ ہو گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
یہ آپ کے حسن اخلاق کی دلیل ہے اور حقیقت ہے کہ آپ سے زیادہ دنیا میں کوئی شخص نرم دل خوش اخلاق پیدا نہیں ہوا۔
اللہ پاک اس پیارے رسول پر ہزارہا ہزار درود وسلام نازل فرمائے۔
آمین ثم آمین۔
(1)
دس سال کی مدت کافی طویل ہوتی ہے، مگر اس مدت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کبھی نہیں ڈانٹا اور نہ کبھی آپ نے سخت کلامی کی۔
یہ آپ کے حسن اخلاق کی واضح دلیل ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر کوئی شخص نرم دل، خندہ جبیں اور خوش کلام پیدا نہیں ہوا۔
(2)
اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی عظمت ظاہر ہوتی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی معاملات میں کبھی مداہنت نہیں کرتے تھے کیونکہ یہ معاملات امر بالمعروف اور نہی اعن المنکر کی قبیل سے ہیں۔
بہرحال آپ اپنے خادموں سے حسن سلوک سے پیش آتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔
(1)
حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنی والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کی کفالت میں تھے۔
انھوں نے اس بات کو سعادت خیال کیا کہ ان کا بیٹا رات دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرے کیونکہ اس میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں تھیں۔
اس جذبے سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور اس وقت ان کے ہمراہ شوہر نامدار حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس لیے واقعے کی نسبت کبھی والدہ اور کبھی ان کے شوہر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی۔
(2)
ایک دوسرا واقعہ بھی اس طرح کا منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے خیبر جاتے ہوئے فرمایا: ’’میرے لیے کوئی بچہ تلاش کرو جو میری دوران سفر میں خدمت کرے تو انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو پیش کیا۔
‘‘ (فتح الباري: 316/12)
بہرحال غلاموں اور بچوں سے خدمت لی جا سکتی ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ مدرسے کے اساتذہ کو بچوں سے خدمت لینے سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ فتنے وفساد کا دور ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ قابل صد مبارک باد ہیںکہ ان کو سفر و حضر میں پورے دس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کا موقع حاصل ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا بہت قریب سے انہوں نے معائنہ کیا اور قیامت تک کے لئے وہ خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت سے دنیا میں یادگار رہ گئے (رضی اللہ عنہ وارضاہ)
یہ ابو طلحہ زید بن سہل انصاری شوہر ام سلیم (والدہ انس)
کے ہیں اوراس حدیث کے جملہ راوی بصری ہیں جس طرح کہ قسطلانی نے بیان کیا ہے۔
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب یتیم میں خدمت کرنے کی صلاحیت ہو تو اسے سفر میں ساتھ لے جانا جائز ہے۔
حضرت ابو طلحہ ؓ حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ تھے کیونکہ ان کی والدہ ام سلیم ؓ سے انہوں نے نکاح کر لیا تھا۔
حضرت انس ؓ کی عمر دس سال تھی جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا گیا، پھر انہیں دس سال تک سفر و حضر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کا موقع ملا۔
انہوں نے بہت قریب سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا مطالعہ کیا اور قیامت تک وہ رسول اللہ ﷺ کے خدمت گزار کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔
جب حضرت انس ؓ فوت ہوئے تو ان کی عمر سو سال سے زیادہ تھی۔
(2)
حضرت انس ؓ کے خادم بننے کی تفصیل اس طرح ہے کہ ان کی والدہ ام سلیم نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے پیش کیا تھا۔
(صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1982)
پھر حضرت ابو طلحہ ؓ نے ان کی اجازت سے غزوۂ خیبر کے لیے جاتے وقت دوران سفر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کے لیے ان کا انتخاب کیا۔
(صحیح البخاري، الجھادوالسیر، حدیث: 2893)
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4774]
بعض نوخیز بچے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ان کو ان کے کاموں میں حوصلہ اور اعتماد دیا جائے تو اس طرح سے انکی عملی زندگی بڑ ی کامیاب رہتی ہے۔
تاہم سارے بچے اس طرح ذہین ہی ہوتے ہیں نہ زیادہ سمجھدار ہی انکو آداب سکھانے کے لیئے کچھ نہ کچھ سرزنش بھی کرنی پڑتی ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اول الذکر قسم کے بچے تھے وہ بچہ ہونے کے با وجود رسول اللہﷺ کو شکائیت کا مو قع نہی دیتے تھے اور نبی اکرمﷺ تو تھے سراپا شفقت اور مجسمِ رحمت۔
آپ نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے ہمیشہ شفقت و پیار والا معاملہ ہی کیا۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4773]
رسول اللہﷺ حلم اور اخلاقِ حسنہ کی شاندار تصویر تھے اور بچوں کی نفسیات سے خوب آگاہ تھے۔
نیز حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی کبھی نبی اکرمﷺ کو ایسا موقع نہیں دیا تھا جو آپ کے ذوق اور مزاج کے لیئے گرانی کا باعث بنتا۔