حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ أَبُو جَعْفَرٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ الْبَرَاءُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْخَضْرَاوَاتِ : الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ وَالْفُجْلِ ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا تَتَأَذَّى مِنْهُ بَنُو آدَمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ ، إِلا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، وَالْقَرَادِيسُ ، فَخِذٌ مِنَ الأَزْدِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان سبزیوں میں سے کچھ کھائے، یعنی لہسن، پیاز، گندنا اور مولی، تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے بھی اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الطهارة / حدیث: 89
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 854، 855، 5452، 7359، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 564، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1664، 1665، 1668، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1644، 1646، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 706، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 788، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1806، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3365، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5133، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1315، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 191، 2231، 5513، 8155، 9347، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 37، 148، 1126 ¤قال الهيثمي: وفيه يحيى بن راشد البراء البصري وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 17)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3365

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3365 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایا: کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقیناً فرشتوں کے لیے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لیے باعث اذیت ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3365]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
گندنا، پیاز سے ملتی جلتی چیز ہے جس میں پیاز کی طرح بو ہوتی ہے۔

(2)
فرشتے بدبو سے نفرت کرتے اور اذیت محسوس کرتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ ان چیزوں سے اجتناب کرتے تھے تاکہ جبریل کو ناگواری نہ ہو۔

(3)
مسلمان کو فرشتوں کا احترام کرتے ہوئے ناگوار بو والی چیز کھانے سے فحش الفاظ بولنے سے عریانی اور فحش حرکات سے پرہیز کرنا چاہیے۔

(4)
لہسن، پیاز اور گندنا حرام نہیں تاہم انہیں استعمال کرنا پڑے تو پکا لینا چاہیے یا بعد میں کوئی ایسی چیز کھا لینی چاہیے جس سے منہ کی بو ختم ہو جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3365 سے ماخوذ ہے۔