حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الأَسَدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ ، وَابْنُ عَمَّتِي "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْعَبَّاسِ ، إِلا شَرِيكٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نبی کا ایک خاص معاون اور مددگار ہوتا ہے، اور میرا معاون زبیر ہے، جو میری پھوپھی کا بیٹا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3744 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3744]
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ۱؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3744]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپﷺ کے مددگارتھے، مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طورسے آپﷺ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
وضاحت:
1؎:
یوں تو سبھی صحابہ کرام آپﷺ کے مددگارتھے، مگر زبیر رضی اللہ عنہ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طورسے آپﷺ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
نوٹ:
(یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ: 122)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3744 سے ماخوذ ہے۔