معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کی عظمت کا بیان
حدیث نمبر: 886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الأَزْدِيُّ ابْنِ بِنْتِ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أبو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ النَّهْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ صُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَلِيٍّ ، وَفَاطِمَةَ ، وَحَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ عَلَيْهِمُ السَّلامُ : "أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ السُّدِّيِّ ، إِلا أَسْبَاطٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم اجمعین کو فرمایا: ”جو شخص تم سے جنگ کرے میں بھی اس کے ساتھ جنگ میں ہوں، اور جو شخص تم سے صلح میں ہو میں بھی اس کے ساتھ صلح میں ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 145 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل۔`
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا: " میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی۔" [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 145]
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا: " میں اس شخص کے لیے سراپا صلح ہوں جس سے تم لوگوں نے صلح کی، اور سراپا جنگ ہوں اس کے لیے جس سے تم لوگوں نے جنگ کی۔" [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 145]
اردو حاشہ:
اس قسم کی روایات سے ان صحابہ و تابعین کی مذمت پر استدلال کیا جاتا ہے، جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا مبینہ طور پر یا واقعتاً اختلاف ہوا، حالانکہ اول تو یہ روایت ہی ضعیف ہے۔
ثانیاً اگر غور کیا جائے تو اس سے ان لوگوں کی مذمت نکلتی ہے جنہوں نے علی رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور ان کی اطاعت و نصرت کا دعوی کیا اور پھر ان سے غداری کر کے انہیں شہید کر دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک خارجی کے ہاتھ سے ہوئی اور خوارج شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پارٹی میں شامل تھے، بعد میں مخالف ہوئے۔
اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلانے والے اور بعد میں انہیں شہید کرنے والے بھی وہی تھے جو ان سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔
اس روایت کی روشنی میں معاویہ رضی اللہ عنہ مخالفین میں سے خارج ہو گئے، لہذا ان پر طعن کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔
اس قسم کی روایات سے ان صحابہ و تابعین کی مذمت پر استدلال کیا جاتا ہے، جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا مبینہ طور پر یا واقعتاً اختلاف ہوا، حالانکہ اول تو یہ روایت ہی ضعیف ہے۔
ثانیاً اگر غور کیا جائے تو اس سے ان لوگوں کی مذمت نکلتی ہے جنہوں نے علی رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ سے محبت اور ان کی اطاعت و نصرت کا دعوی کیا اور پھر ان سے غداری کر کے انہیں شہید کر دیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت ایک خارجی کے ہاتھ سے ہوئی اور خوارج شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پارٹی میں شامل تھے، بعد میں مخالف ہوئے۔
اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ بلانے والے اور بعد میں انہیں شہید کرنے والے بھی وہی تھے جو ان سے محبت کا دعویٰ رکھتے تھے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔
اس روایت کی روشنی میں معاویہ رضی اللہ عنہ مخالفین میں سے خارج ہو گئے، لہذا ان پر طعن کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 145 سے ماخوذ ہے۔