حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ ثَعْلَبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " يَا خَالِدُ ، لا تُؤْذِ رَجُلا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، فَلَوْ أَنْفَقْتَ مثل أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ ، فَقَالَ : يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : لا تُؤْذُوا خَالِدًا ، فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، إِلا أَبُو إِسْمَاعِيلَ ، تَفَرَّدَ بِهِ الرَّبِيعُسیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد! اہل بدر میں سے کسی شخص کو تکلیف نہ دینا کیونکہ اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کر دو تو ان کے عمل کو نہیں پہنچ سکتے۔“ تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ مجھے برا بھلا کہتے ہیں اور میں اس کا جواب دیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خالد کو تکلیف نہ دو، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جس کو اللہ نے کفار پر ڈال دیا ہے۔“