حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ أَحْمَدَ التُّجِيبِيُّ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الإِسْلامَ بَدَا غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَا ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، قِيلَ : وَمَنِ الْغُرَبَاءُ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : الَّذِينَ يُصْلِحُونَ إِذَا فَسَدَ النَّاسُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، إِلا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام غریب حالت میں شروع ہوا اور عنقریب اسی طرح لوٹ جائے گا جس طرح شروع ہوا، تو غریبوں کے لیے خوشی ہو۔“ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! غریب کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کی اصلاح کر دیتے ہیں جب لوگ بگاڑ پیدا کریں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2629 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اسلام اجنبی بن کر آیا پھر اجنبی بن جائے گا۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2629]
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2629]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوش خبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کرکے جان ومال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔
وضاحت:
1؎:
مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوش خبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کرکے جان ومال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2629 سے ماخوذ ہے۔