معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: عراق، شام اور یمن کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا بیان
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الصَّنْعَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، وَسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "نَظَرَ قِبَلَ الْعِرَاقِ وَالشَّامِ وَالْيَمَنِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ عَلَى طَاعَتِكَ ، وَحُطَّ مِنْ وَرَائِهِمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ التَّيْمِيِّ ، إِلا مَعْمَرٌ ، وَلا عَنْهُ ، إِلا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ الْقَاضِي ، تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، وَرَوَى أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عراق، شام اور یمن کی طرف دیکھ کر دعا کی: ”اے اللہ! ان کے دلوں کو اپنی فرمانبرداری پر موڑ دے، اور ان کے پیچھے سے حفاظت کر۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3934 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´یمن کی فضیلت کا بیان`
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ” اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3934]
زید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: ” اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3934]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مدینہ میں زیادہ ترعلم یمن سے آیا کرتا تھا، اس لیے آپﷺ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی، اسی مناسبت سے آپﷺ نے مدینہ کی صاع اور مد (یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے) میں برکت کی دعا فرمائی۔
وضاحت:
1؎:
مدینہ میں زیادہ ترعلم یمن سے آیا کرتا تھا، اس لیے آپﷺ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی، اسی مناسبت سے آپﷺ نے مدینہ کی صاع اور مد (یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے) میں برکت کی دعا فرمائی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3934 سے ماخوذ ہے۔