حدیث نمبر: 852
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرَفَةَ الأَنْبَارِيُّ ، بِالأَنْبَارِ ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الصَّبِيُّ بْنُ الأَشْعَثِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ ، عَنْ عَلِيٍّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ ، قَالَ : "اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الصَّبِيِّ ، إِلا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عمار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاک کیے ہوئے پاک باز کو خوش آمدید۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المناقب / حدیث: 852
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7075، 7076، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5711، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3798، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 146، 147، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 790، 1014، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 119، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 403، 404، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4794، والطبراني فى «الصغير» برقم: 238، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32909»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3798 | سنن ابن ماجه: 146

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 146 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں آنے کی اجازت دو، «طیب و مطیب» پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 146]
اردو حاشہ: (1)
حضرت عمار، ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ رضی اللہ عنھم ان عظیم صحابہ کرام میں شامل ہیں جنہوں نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور کفار کے ہاتھوں بہت سی تکلیفیں برداشت کیں، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔

(2)
پاک کیے ہوئے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اخلاص نصیب فرمایا ہے اور ایسی عادات و خصائل سے پاک فرما دیا ہے جو ایک کامل ایمان والے مومن کی شان کے لائق نہیں۔

(3)
دوستوں کو مرحبا اور خوش آمدید کہنا بھی اخلاق حسنہ میں شامل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 146 سے ماخوذ ہے۔