حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يُوسُفَ الْعَابِدُ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، إِلا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
بریدہ بن حصیب کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ اس کا علی بھی مولیٰ ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3713 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب`
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3713]
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3713]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ ﷺ کے اس فرمان: (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کا ایک خاص سبب ہے، کہاجاتا ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: (لَسْتَ مَوْلَایَ إِنَّمَا مَوْلَایَ رَسُوْلُ اللہِﷺ) یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کہا، امام شافعی ؒ کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد (وِلَاءُ الْإسْلاَم) یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چار گی ہے، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حق دار تھے۔
صحیح نہیں ہے۔
وضاحت:
1؎:
آپ ﷺ کے اس فرمان: (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کا ایک خاص سبب ہے، کہاجاتا ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: (لَسْتَ مَوْلَایَ إِنَّمَا مَوْلَایَ رَسُوْلُ اللہِﷺ) یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کہا، امام شافعی ؒ کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد (وِلَاءُ الْإسْلاَم) یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چار گی ہے، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حق دار تھے۔
صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3713 سے ماخوذ ہے۔