حدیث نمبر: 847
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ يُوسُفَ الْعَابِدُ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ الْحُصَيْبِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلاهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، إِلا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

بریدہ بن حصیب کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا میں مولیٰ اس کا علی بھی مولیٰ ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المناقب / حدیث: 847
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6930، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 414، 2604، 2605، 4605، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8088 ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 346، 5756، 6085، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 191، والبزار فى «مسنده» برقم: 4352، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32728، وله شواهد من حديث زيد بن أرقم الأنصاري، فأما حديث زيد بن أرقم الأنصاري، أخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 3713، والطبراني فى«الكبير» برقم: 3049»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3713

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3713 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب`
ابوسریحہ یا زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3713]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ ﷺ کے اس فرمان: (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کا ایک خاص سبب ہے، کہاجاتا ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے جب علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: (لَسْتَ مَوْلَایَ إِنَّمَا مَوْلَایَ رَسُوْلُ اللہِﷺ) یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے (مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ) کہا، امام شافعی ؒ کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد (وِلَاءُ الْإسْلاَم) یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چار گی ہے، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حق دار تھے۔
صحیح نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3713 سے ماخوذ ہے۔