حدیث نمبر: 846
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ : دَخَلَ عَلَي ّرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَلَسَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا ، فَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ وَرَحْمَتُهُ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ وَضَعْتُهُ ، فَقَالَ : " ادْعِي لِي حَسَنًا ، وَحُسَيْنًا ، وَابْنَ عَمِّكِ عَلِيًّا ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ قَالَ لَهُمْ : هَؤُلاءِ حَامَتِي وَأَهْلُ بَيْتِي ، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ طُعْمَةَ ، إِلا زَافِرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِشْكِدَانَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

شہر بن حوشب کہتے ہیں: میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ۔“ جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہل بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب المناقب / حدیث: 846
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3579، 4730، 6838، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3871، قال الشيخ الألباني: صحيح بما تقدم رقم 3435، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2905، وأحمد فى «مسنده» برقم: 27151، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6888، 6912، والطبراني فى«الكبير» برقم: 2662، 2663، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2260، 3799، 7614، والطبراني فى «الصغير» برقم: 177، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32767 ، وله شواهد من حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق رضي الله عنهما ، فأما حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق رضي الله عنهما ، أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2424، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 2902، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 4732»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3871

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3871 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ رضی الله عنہم کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ، تو ام سلمہ رضی الله عنہا بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تو (بھی) خیر پر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3871]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر (3787)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3871 سے ماخوذ ہے۔