حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبَانَ السَّرَّاجُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، إِلا مَعْمَرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرے، اسے دین میں سمجھ دے دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب العلم / حدیث: 84
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه النسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5808، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 220، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5855، والبزار فى «مسنده» برقم: 7717، 7718، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1691، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5424، والطبراني فى «الصغير» برقم: 810، وله شواهد من حديث معاوية بن أبى سفيان ، فأما حديث معاوية بن أبى سفيان، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 71، 3116، 7312، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1037، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 221، ومالك فى «الموطأ» برقم: 1625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 17109»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 220

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 220 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیرت عنایت کر دیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 220]
اردو حاشہ: (1)
عام طور پر فقہ سے نماز روزہ جیسے امور اور خرید وفروخت جیسے معاملات میں جائز و ناجائز، واجب و مستحب اور ان کی شروط، ارکان و آداب وغیرہ مراد لیے جاتے ہیں۔
عقائد و اخلاق وغیرہ کو الگ علوم تصور کیا جاتا ہے لیکن قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں جہاں فقہ و تفقہ جیسے الفاظ آئے ہیں، ان سے یہ اصطلاحی معنی مراد نہیں بلکہ وہاں مطلقاً دین کا علم وفہم مراد ہوتا ہے جس میں عبادات و معاملات کے ساتھ ساتھ اصلاح قلب، تزکیہ نفس، اخلاق حسنہ اور عقائد صحیحہ وغیرہ سبھی مراد ہوتے ہیں۔
جس کو ان چیزوں کا علم حاصل ہو جائے وہ اللہ کے حقوق بھی ادا کر سکتا ہے، اپنی ذات کے حقوق بھی اور احباب و اقارب کے علاوہ عام مسلمانوں اور اصحاب اقتدار کے حقوق بھی ادا کر سکتا ہے۔
اس طرح اس کی ندگی قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھل کر دینی و دنیوی خیروبرکت کا ذریعہ بن جاتی ہے، اوور وہ دوسروں کےلیے بھی سراپا رحمت بن جاتا ہے، اور یہی وہ خیر عظیم ہے جس سے بڑھ کر کوئی خیر نہیں۔

(2)
دین و دنیا کی یہ برکات وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو مذکورہ بالا امور کے بارے میں شرعی احکام سے واقف ہو، لہذا اس سے علم دین سیکھنے کی اہمیت اور ضرورت واضح ہوتی ہے۔

(3)
اس سے دین کے معلمین و مدرسین کا بلند مقام بھی واضح ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رحلت فرما جانے کے بعد یہ سب کچھ علماء ہی سے حاصل ہو سکتا ہے۔
اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب بھی ایک معلم کا تھا جیسے کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتـبَ وَالحِكمَةَ﴾ (البقرۃ: 129)
 ’’(وہ پیغمبر)
انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا۔‘‘
یہی حکمت، وہ فہم دین ہے جسے اس حدیث میں فقہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 220 سے ماخوذ ہے۔