معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: خوشی کے موقع پر لڑکیوں کا دف بجا کر اشعار کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 834
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُوسَى الْعَسْكَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عَوْفٍ الأَعْرَابِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : "مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ ، فَإِذَا جَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ ، وَيَقُلْنَ : نَحْنُ قَيْنَاتُ بَنِي النَّجَّارِ ، فَحَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ قَلْبِيَ يُحِبُّكُمْ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَوْفٍ ، إِلا عِيسَى ، تَفَرَّدَ بِهِ مُصْعَبُ بْنُ سَعِيدٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نجار کے ایک قبیلے سے گزرے تو کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں، اور کہہ رہی تھیں: «نَحْنُ قَيْنَاتُ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَحَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارٍ» ”ہم بنو نجار کی لڑکیاں ہیں۔ ہمارے ہمسایہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہی اچھے ہمسایہ ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ قَلْبِي يُحِبُّكُمْ» ”اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میرا دل تم سے محبت کرتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1899 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´(شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1899]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں: «نحن جوار من بني النجار يا حبذا محمد من جار» ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1899]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
چھوٹی بچیاں دف بجائیں تو جائز ہے، لیکن دوسرے سازوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(2)
معزز بزرگ چھوٹی بچیوں سے مناسب الفاظ میں محبت کا اظہار کر سکتا ہے بشرطیکہ کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
(3)
’’اللہ جانتا ہے‘‘ کے الفاظ قسم کا مفہوم رکھتے ہیں۔
تاکید کے طور پر قسم کے الفاظ بولنا جائز ہے، خواہ شک و شبہ کا مقام نہ ہو۔
(4)
رسول اللہ ﷺ کو انصار سے محبت تھی کیونکہ انہوں نے اسلام کے لیے بہت قربانیاں دی تھیں۔
مومنوں کے لیے بھی انصار سے محبت ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
چھوٹی بچیاں دف بجائیں تو جائز ہے، لیکن دوسرے سازوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔
(2)
معزز بزرگ چھوٹی بچیوں سے مناسب الفاظ میں محبت کا اظہار کر سکتا ہے بشرطیکہ کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔
(3)
’’اللہ جانتا ہے‘‘ کے الفاظ قسم کا مفہوم رکھتے ہیں۔
تاکید کے طور پر قسم کے الفاظ بولنا جائز ہے، خواہ شک و شبہ کا مقام نہ ہو۔
(4)
رسول اللہ ﷺ کو انصار سے محبت تھی کیونکہ انہوں نے اسلام کے لیے بہت قربانیاں دی تھیں۔
مومنوں کے لیے بھی انصار سے محبت ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1899 سے ماخوذ ہے۔