حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَرِّحٍ الْحَرَّانِيُّ ، بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا عَمِّي الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُسَرِّحٍ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ، " فَقَبَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ ، وَقَالَ : مَا أَدْرِي أَنَا بِقُدُومِ جَعْفَرٍ أُسَرُّ ، أَمْ بِفَتْحِ خَيْبَرَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مِسْعَرٍ ، إِلا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حبشہ کی سرزمین سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں کے درمیان والی جگہ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”مجھے یہ بات معلوم نہیں کہ میں جعفر کے آنے سے زیادہ خوش ہوں یا خیبر کی فتح سے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5220 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔`
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
فوائد ومسائل:
اس سے بڑے آدمی کو بوسہ دینے کا اثبات نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
اس سے بڑے آدمی کو بوسہ دینے کا اثبات نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5220 سے ماخوذ ہے۔