حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ الرَّقِّيُّ الْفَقِيهُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "قَالَ لِي جِبْرِيلُ : بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لا صَخَبَ فِيهِ وَلا نَصَبَ " يَعْنِي قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُلَيْمَانَ ، إِلا أَبُو بَكْرٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ أَبِي سَمِينَةَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے کہا ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں بانسوں کے مکان کی بشارت دیجیے، جس میں نہ شور ہو گا اور نہ کوئی تھکاوٹ ہو گی، یعنی یہ کانے اور بانس موتیوں کے ہوں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3819 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3819. حضرت اسماعیل بن ابوخالد سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے پوچھا: کیا نبی ﷺ نے سیدہ خدیجہ ؓ کو خوشخبری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جنت میں ایسے محل کی بشارت دی تھی جو ایک موتی سے بنا ہو گا، جس میں کوئی شوروغل اور کسی قسم کی مشقت نہ ہو گی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3819]
حدیث حاشیہ:
جنت کے محل کی دوصفات بیان کی گئی ہیں کہ اس میں شوروغل اور تھکاوٹ وغیرہ نہیں ہوگی۔
ان دوصفات کی مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت خدیجہ ؓ کو اسلام کی دعوت دی تو وہ نہایت خوش دلی سے اور شرح صدر سے مسلمان ہوئیں، شوروغوغا اور جھگڑے وغیرہ کی نوبت نہیں آئی اور نہ اس میں انھیں کسی قسم کی کوفت ہی اٹھانا پڑی بلکہ آپ کے ایمان لانے سے رسول اللہ ﷺ کو بہت سکون میسرآیا اور شریک حیات نے آپ سے ہرقسم کا تعاون کیا۔
(فتح الباري: 174/7)
جنت کے محل کی دوصفات بیان کی گئی ہیں کہ اس میں شوروغل اور تھکاوٹ وغیرہ نہیں ہوگی۔
ان دوصفات کی مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت خدیجہ ؓ کو اسلام کی دعوت دی تو وہ نہایت خوش دلی سے اور شرح صدر سے مسلمان ہوئیں، شوروغوغا اور جھگڑے وغیرہ کی نوبت نہیں آئی اور نہ اس میں انھیں کسی قسم کی کوفت ہی اٹھانا پڑی بلکہ آپ کے ایمان لانے سے رسول اللہ ﷺ کو بہت سکون میسرآیا اور شریک حیات نے آپ سے ہرقسم کا تعاون کیا۔
(فتح الباري: 174/7)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3819 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2433 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
اسماعیل رحمۃ ا للہ علیہ کہتے ہیں،میں نے عبداللہ بن ابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا،کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جنت میں گھر کی بشارت دی تھی،انہوں نے کہا،ہاں،آپ نے انہیں جنت میں خولدار موتیوں سے بنے ہوئےگھر کی بشارت دی تھی،جس میں نہ شوروشغب ہوگا اور نہ مشقت وتھکان۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6274]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
قصب: خولدار چیز، لیکن یہاں مراد خولدار موتی ہیں۔
(2)
صخب: شور شرابہ، (3)
فصب: مشقت، تھکان۔
(1)
قصب: خولدار چیز، لیکن یہاں مراد خولدار موتی ہیں۔
(2)
صخب: شور شرابہ، (3)
فصب: مشقت، تھکان۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2433 سے ماخوذ ہے۔