معجم صغير للطبراني
كتاب المناقب— مناقب کا بیان
باب: امّتِ محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی عظمت ورفعت کا بیان
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيُّ الْخَيَّاطُ ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ التَّيْمِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، جَعَلَ اللَّهُ عَذَابَهَا بِأَيْدِيهَا ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُفِعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُل مِنْ أَهْلِ الأَدْيَانِ ، فَكَانَ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَالِمٍ ، وَابْنِ خُثَيْمٍ ، إِلا زُهَيْرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ عَمْرٌوترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت مرحومہ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا عذاب اس کے اپنے ہاتھ میں کر دیا ہے، جب قیامت کا دن ہو گا تو مسلمانوں کے ہر ایک آدمی کو دوسرے ادیان کا ایک آدمی دیا جائے گا جو اس کے جہنم سے چھٹکارے کے لیے فدیہ ہو جائے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4278 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فتنہ میں قتل ہونے پر مغفرت کی امید رکھے جانے کا بیان۔`
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا۔" [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4278]
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہو گا اور دنیا میں اس کا عذاب: فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہو گا۔" [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4278]
فوائد ومسائل:
آخرت میں اس امت کے اہلِ ایمان کے لیے ابدی عذاب نہیں ہے۔
ان کے لیئے دنیا میں پیش آنے والی انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں آخرت کے عذاب سے کفارہ بن جا ئیں گی۔
ان شاء اللہ
آخرت میں اس امت کے اہلِ ایمان کے لیے ابدی عذاب نہیں ہے۔
ان کے لیئے دنیا میں پیش آنے والی انفرادی اور اجتماعی آزمائشیں آخرت کے عذاب سے کفارہ بن جا ئیں گی۔
ان شاء اللہ
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4278 سے ماخوذ ہے۔