حدیث نمبر: 791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَسْكَرِيُّ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُرَاتُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "الْعَمَلُ فِي الْهَرْجِ وَالْفِتْنَةِ كَالْهِجْرَةِ إِلَيَّ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْفُرَاتِ ، إِلا أَيُّوبُ ، وَلا رَوَاهُ عَنِ الأَعْمَشِ ، إِلا الْفُرَاتُ وَسَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سخت جنگ و قتال اور فتنے میں نیکی کرنا اس طرح ہو گا جس طرح میری طرف ہجرت کر کے آنے کا ثواب ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الفتن / حدیث: 791
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 2948، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5957، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2201، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3985، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20624، 20637، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 974، والطبراني فى«الكبير» برقم: 488، 489، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 296، والطبراني فى «الصغير» برقم: 933، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 38454»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2948 | سنن ترمذي: 2201 | سنن ابن ماجه: 3985

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2201 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قتل و خوں ریزی اور اس وقت کی عبادت کا بیان۔`
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2201]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
قتل وخوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دوررہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2201 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3985 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان۔`
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنوں (کے ایام) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3985]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
فتنہ وفساد کے ایام میں فتنوں میں شمولیت سے بہتر ہے کہ الگ تھلگ رہا جائے۔
اس کے لیے بہترطریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارا جائے۔

(2)
رہبانیت ممنوع ہے لیکن فتنوں کے ایام میں گوشہ نشینی رہبانیت میں شامل نہیں کیونکہ رہبانیت کا مطلب ہے کہ عوام سے جائز میل جول سے بھی اجتناب کیا جائے اور عبادت میں اس طرح کی سختی کی جائے جو سنت کے خلاف ہے جب کہ اس گوشہ نشینی کا مقصد اپنے آپ کو قتل وغارت اور فساد میں ملوث ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس دوران میں مسنون نفلی عبادات میں اس حد تک مشغول ہوا جاسکتا ہے کہ اپنی ذات اور بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے کے علاوہ کسی اور مشکوک سر گرمی میں حصہ نہ لیا جاسکے۔

(3)
ہجرت میں وطن چھوڑا جاتا ہے اور گوشہ نشینی میں اہل وطن کی برائیوں اور شرارتوں سے دامن بچانے کے لیے ان سے تعلق محدود کیاجاتا ہے۔
اس لحاظ سے یہ دونوں عمل مشابہ ہیں۔
اوران دونوں کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3985 سے ماخوذ ہے۔