حدیث نمبر: 789
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ بِلالٍ الأَنْدَلُسِيُّ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحْصَرُوا بِالْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدُ مَسَالِحِهِمْ بِسِلاحٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِلا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ وَهْبٍ ، وَسِلاحٌ : حَدٌّ مَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَخَيْبَرَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب ہے کہ مسلمان مدینے میں محصور ہو جائیں یہاں تک کہ ان کی بعید ترین ہتھیار گاہ سلاح میں ہو گی۔“ سلاح خیبر اور مدینہ کے درمیان ایک حد ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4250 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فتنوں کا ذکر اور ان کے دلائل کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قریب ہے کہ مسلمان مدینہ ہی میں محصور کر دئیے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفتن والملاحم /حدیث: 4250]
فوائد ومسائل:
یہ شائد دجال کے زمانے میں ہوگا۔
و اللہ اعلم
یہ شائد دجال کے زمانے میں ہوگا۔
و اللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4250 سے ماخوذ ہے۔