حدیث نمبر: 785
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُفْيَانَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "تَفْتَرِقُ هَذِهِ الأُمَّةُ عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلا وَاحِدَةً ، قَالُوا : وَمَا هِيَ تِلْكَ الْفُرْقَةُ ؟ ، قَالَ : مَا أَنَا عَلَيْهِ الْيَوْمَ وَأَصْحَابِي "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُفْيَانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس امت کے تہتر فرقے ہوں گے، جو سب کے سب جہنم میں جائیں گے مگر ایک۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ کون سا فرقہ ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس طریقہ پر آج میں اور میرے صحابہ ہیں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الفتن / حدیث: 785
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 3993، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12391، 12674، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3668، وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3938، 3944، 4127، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 6214، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 7659، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 4886، 7840، وأخرجه الطبراني فى «الصغير» برقم: 724، وله شواهد من حديث أبى هريرة الدوسي ، فأما حديث أبى هريرة الدوسي ، أخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4596، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2640، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3991، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8512، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6247»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3993

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3993 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ «الجماعة» ہے، (وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو) ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3993]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نبیﷺ نے مستقبل میں آنے والے جن جن واقعات کی جس جس طرح خبردی۔
وہ اسی طرح پیش آئے۔
یہ رسول اللہﷺ کی نبوت اور صداقت کی دلیل ہے۔

(2)
فرقوں میں تقسیم ہونے کے بارے میں اس لیے بتایا گیا ہے کہ مسلمان ان اختلافات میں صحیح طرز عمل اختیار کرنے کی کوشش کریں۔

(3)
نصاریٰ اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصل وجہ خواہشات نفس کی پیروی اور تعصب ہے۔
اور یہ جرائم جہنم میں لے جانے والے ہیں۔

(4)
مسلمانوں کی اصل جماعت وہ ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے طریقے پر چلی آرہی ہے۔
اس جماعت سے لوگ مختلف فرقوں کی شکل اختیار کرگئے لیکن اصل جماعت بھی قائم ہے۔
مسلمانوں کو اسی جماعت کے ساتھ رہنے کی پیروی کرنے کا حکم ہے۔

(5)
جماعت سے الگ ہونے والے خواہش نفس یا غلط تاویلات کی وجہ سے الگ ہوئے۔
جو لوگ ان فرقوں میں شامل نہیں ہوئے وہ قرآن و حدیث پر قائم رہے۔
یہی سیدھا راستہ ہے۔

(6)
نجات کا دارومدار اپنی پارٹی کا کوئی خاص نام رکھ لینے پر نہیں بلکہ قرآن وسنت پر عمل کرنے پر ہے۔
عاملین کتاب وسنت مختلف زبانوں اور علاقوں میں مختلف ناموں سے مشہور ہوجائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ الگ الگ فرقے بن گئے ہیں بلکہ وہ سب تنظیمیں یا جماعتیں الجماعۃ میں شامل ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3993 سے ماخوذ ہے۔