حدیث نمبر: 783
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " يَا كَعْبُ ، أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ بَعْدِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ ، قَالَ : مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَذَاكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ ، لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ، وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ ، النَّاسُ غَادِيَانِ فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا ، وَفَادٍ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا ، وَالصَّلاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا عَقِيلٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب! اللہ تجھے ان امراء سے محفوظ رکھے جو میرے بعد ہوں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان پر داخل ہوا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم میں ان سے تعاون کیا، تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں، اور وہ میرے پاس حوض پر بھی نہ آئے گا، اور جو ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی، اور ان کے ظلم میں ان سے تعاون بھی نہ کیا، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور حوض پر بھی وہ میرے پاس آئے گا۔ جنت میں وہ گوشت نہیں جائے گا جو حرام سے پلا ہوا ہو، اور جو گوشت بھی حرام سے پلا ہوا ہو آگ اس کی زیادہ مستحق ہو گی، لوگ صبح باہر جاتے ہیں تو کوئی اپنی جان کو بیچ دیتا ہے تو وہ اسے ہلاک کر دیتا ہے، اور کوئی آدمی اسے فدیہ دے کر چھوڑا لاتا ہے تو یہ اس کو جہنم سے آزاد کرنے والا ہے۔ نماز دلیل و برہان ہے، اور روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو بجھا دیتا ہے جیسے آگ کو پانی بجھا دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الفتن / حدیث: 783
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، أخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4212، 4213، قال الشيخ الألباني: صحيح ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7782، 7783، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 263، 264، والترمذي فى «جامعه» برقم: 614، 615، 2259، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 16765، 16766، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18413، والطبراني فى«الكبير» برقم: 212، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 764، 2730، 4480، 5093، والطبراني فى «الصغير» برقم: 430، 625، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32340»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2259 | معجم صغير للطبراني: 772 | سنن نسائي: 4212 | سنن نسائي: 4213

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2259 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خراب حاکم سے متعلق پیش گوئی۔`
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2259]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2259 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4212 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ظلم میں امیر کی مدد کرنے والے پر وعید کا بیان۔`
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آ سکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
اردو حاشہ: (1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت واضح ہے کہ جو شخص، کسی بھی طریقے سے، حاکم و امیر کے ظلم پر اس کی حمایت و اعانت کرے گا، اس کے لیے یہ خطرناک وعید ہے کہ وہ حوض کوثر پر آنے اور جامِ کوثر نوش کرنے کی سعادت سے محروم ہو جائے گا، لہٰذا اس وعید شدید کو مدنظر رکھتے ہوئے ظالم حکمرانوں کے حضور اپنی بزرگانہ و مشفقانہ، نیز عالمانہ و فاضلانہ خدمات پیش کرنے کے عوض اسمبلی کی ممبری، پرمٹ و پلاٹ اور دیگر عارضی و فانی اور زوال پذیر مراعات حاصل کرنے اور ان کامیابیوں کو اپنا کمال ہنر سمجھنے والے، متلاشیانِ قربِ شاہی، درباری ملاؤں اور اصحاب جبہ و دستار کو بھی اپنی سنہری خدمات کا ازسر نو جائزہ ضرور لینا چاہیے۔ ظلم و ناانصافی والے معاملے میں حاکم و امیر کی مدد کرنا کبیرہ گناہ ہے۔
(2) ظالم حکمرانوں اور بے انصاف امراء سے فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ ان کے شر سے اپنے دین و ایمان کو سلامت رکھا جا سکے۔ ان سے قرب کی صورت میں یا تو ان کے ظلم و زیادتی پر، کسی بھی انداز سے، انہیں تعاون ملے گا یا ان کی تائید ہو گی یا پھر ظلم و زیادتی پر خاموشی اور سکوت کرنا پڑے گا، اور اصلاح کی صورت میں اپنے دین و ایمان کے فساد یا اپنی جان و مال کے اتلاف کا خطرہ ہے، اس لیے عافیت، اور سلامتی ان لوگوں سے دور رہنے ہی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سلف صلاح حکمرانوں سے دور ہی رہا کرتے تاکہ ان کے شر سے اپنے آپ کو اور اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں۔
(3) ’تصدیق نہ کرے یعنی ان کے پاس جائے تو سہی مگر حق پر قائم رہے اور انہیں بھی حق کی طرف دعوت دیتا رہے۔ واقعتا یہ بلند مرتبہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4212 سے ماخوذ ہے۔