معجم صغير للطبراني
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان
باب: ظالم امراء سے تعاون کا عذاب اور نماز، روزہ و زکوٰۃ کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ الْجَارُودِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : " يَا كَعْبُ ، أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ أُمَرَاءَ يَكُونُونَ بَعْدِي ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا ذَاكَ ؟ ، قَالَ : مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ ، وَلَنْ يَرِدَ عَلَى الْحَوْضِ ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ، فَذَاكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ ، لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ ، وَكُلُّ لَحْمٍ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ ، النَّاسُ غَادِيَانِ فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا ، وَفَادٍ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا ، وَالصَّلاةُ بُرْهَانٌ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ ، كَمَا يُطْفِئُ النَّارَ الْمَاءُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا عَقِيلٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَسیدنا کعب بن عجرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب! اللہ تجھے ان امراء سے محفوظ رکھے جو میرے بعد ہوں گے۔“ میں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان پر داخل ہوا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم میں ان سے تعاون کیا، تو وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں، اور وہ میرے پاس حوض پر بھی نہ آئے گا، اور جو ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی، اور ان کے ظلم میں ان سے تعاون بھی نہ کیا، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، اور حوض پر بھی وہ میرے پاس آئے گا۔ جنت میں وہ گوشت نہیں جائے گا جو حرام سے پلا ہوا ہو، اور جو گوشت بھی حرام سے پلا ہوا ہو آگ اس کی زیادہ مستحق ہو گی، لوگ صبح باہر جاتے ہیں تو کوئی اپنی جان کو بیچ دیتا ہے تو وہ اسے ہلاک کر دیتا ہے، اور کوئی آدمی اسے فدیہ دے کر چھوڑا لاتا ہے تو یہ اس کو جہنم سے آزاد کرنے والا ہے۔ نماز دلیل و برہان ہے، اور روزہ ڈھال ہے، اور صدقہ گناہ کو بجھا دیتا ہے جیسے آگ کو پانی بجھا دیتا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے اور ہم لوگ نو آدمی تھے، پانچ اور چار، ان میں سے کوئی ایک گنتی والے عرب اور دوسری گنتی والے عجم تھے ۱؎ آپ نے فرمایا: ” سنو: کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے امراء ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جو شخص ان کے پاس نہ جائے، ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کرے اور نہ ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے، وہ مجھ سے ہے، اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2259]
وضاحت:
1؎:
یعنی راوی کو شک ہے کہ عربوں کی تعداد پانچ تھی، اور عجمیوں کی چار یا اس کے برعکس تھے۔
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا: ” میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آ سکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4212]
(2) ظالم حکمرانوں اور بے انصاف امراء سے فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ ان کے شر سے اپنے دین و ایمان کو سلامت رکھا جا سکے۔ ان سے قرب کی صورت میں یا تو ان کے ظلم و زیادتی پر، کسی بھی انداز سے، انہیں تعاون ملے گا یا ان کی تائید ہو گی یا پھر ظلم و زیادتی پر خاموشی اور سکوت کرنا پڑے گا، اور اصلاح کی صورت میں اپنے دین و ایمان کے فساد یا اپنی جان و مال کے اتلاف کا خطرہ ہے، اس لیے عافیت، اور سلامتی ان لوگوں سے دور رہنے ہی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر سلف صلاح حکمرانوں سے دور ہی رہا کرتے تاکہ ان کے شر سے اپنے آپ کو اور اپنے دین کو محفوظ رکھ سکیں۔
(3) ’”تصدیق نہ کرے“ یعنی ان کے پاس جائے تو سہی مگر حق پر قائم رہے اور انہیں بھی حق کی طرف دعوت دیتا رہے۔ واقعتا یہ بلند مرتبہ ہے۔