حدیث نمبر: 781
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَرَجِ أَبُو يَعْلَى الرُّخَّجِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ شَدَّادٍ الْقِتْبَانِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ آمَنَ رَجُلا عَلَى دَمِهِ فَقَتَلَهُ فَأَنَا بَرِيءٌ مِنَ الْقَاتِلِ ، وَإِنْ كَانَ الْمَقْتُولُ كَافِرًا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، إِلا مِهْرَانُ الرَّازِيُّ ، تَفَرَّدَ بِهِ يُوسُفُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی کو اپنے خون پر امانت دار سمجھے مگر وہ اس کو مار ڈالے، تو میں اس قاتل سے بری ہوں، اگرچہ وہ مقتول کافر ہی کیوں نہ ہو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الفتن / حدیث: 781
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5982، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8132، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8686، 8687، 8688، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2688، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 18490، 18491، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22365، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2551، 4252، والطبراني فى «الصغير» برقم: 38، 584، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9679»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2688 | معجم صغير للطبراني: 915

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2688 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´کسی کو امان دینے کے بعد قتل کرنا کیسا ہے؟`
رفاعہ بن شداد قتبانی کہتے ہیں کہ اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنی ہے تو میں مختار ثقفی کے سر اور جسم کے درمیان چلتا، میں نے عمرو بن حمق خزاعی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کو جان کی امان دی، پھر اس کو قتل کر دیا تو قیامت کے دن دغا بازی کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2688]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی کو امان دے کر قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے۔

(2)
عہد شکنی اتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن ایسے مجرم کے جسم پر جھنڈا نصب ہوگا جس سے ہر شخص کو معلوم ہوجائے گاکہ فلاں شخص عہد شکن ہے۔
اس طرح اس کی سخت بدنامی ہوگی۔

(3)
مختار بن عبید ثقفی نے حضرت حسین ؓ کی شہادت کے بعد ان کے انتقام کا نعرہ بلند کیا اور اس طرح عوام کی ہمدردیاں حاصل کی۔
حضرت حسین ؓ کے قاتلوں سے انتقام لینے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اسے عوام کی محبت او رہمدردی حاصل ہوگئی ہے تو نبوت کا دعویٰ کردیا او رلوگوں کو گمراہ کیا۔
حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے اسے قتل کرکے اس فتنے کا خاتمہ کیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2688 سے ماخوذ ہے۔