حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ كَاسٍ النَّخَعِيُّ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "هَلاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ أُغَيْلِمَةَ مِنْ سُفَهَاءِ قُرَيْشٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَعْمَشِ ، إِلا شَيْبَانُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کا ہلاک ہونا قریش کے چند بے وقوف چھوٹے لڑکوں کے ہاتھوں ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3605 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3605. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے صادق ومصدوق ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔‘‘ مروان نے ازراہ تعجب کہا: نوجوانوں کے ہاتھوں سے؟حضرت ابوہریرہ ؓنے کہا: اگر تو چاہتا ہے تو میں ان کے نام ذکر کیے دیتا ہوں: وہ فلاں فلاں کے بیٹے ہوں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3605]
حدیث حاشیہ: حضرت ابوہریرہ ؓ کو آنحضرت ﷺ نے ان کے نام بھی بتلائے ہوں گے جب تو ابوہریرہ ؓ کہتے تھے کہ 60ھ سے یا اللہ! مجھ کو بچائے رکھنا اور چھوکروں کی حکومت سے بچانا، یہی سال یزید کے بادشاہ ہونے کا ہے۔
اکثر نوجوان تجربات سے نہیں گزرنے پاتے، اس لیے بسا اوقات سیادت وقیادت میں وہ مخرب یعنی خرابیاں پیدا کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر رسولوں کو مقام رسالت چالیس سال کی عمر کے بعد ہی دیا گیا ہے۔
اکثر نوجوان تجربات سے نہیں گزرنے پاتے، اس لیے بسا اوقات سیادت وقیادت میں وہ مخرب یعنی خرابیاں پیدا کرنے والے ثابت ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر رسولوں کو مقام رسالت چالیس سال کی عمر کے بعد ہی دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3605 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3605 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3605. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ میں نے صادق ومصدوق ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میری امت کی ہلاکت قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں ہوگی۔‘‘ مروان نے ازراہ تعجب کہا: نوجوانوں کے ہاتھوں سے؟حضرت ابوہریرہ ؓنے کہا: اگر تو چاہتا ہے تو میں ان کے نام ذکر کیے دیتا ہوں: وہ فلاں فلاں کے بیٹے ہوں گے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3605]
حدیث حاشیہ:
1۔
ہلاکت سے مراد یہ ہے کہ بنو امیہ کے جوان ایسے کام کرنے لگیں گے جو لوگوں کی ہلاکت کا باعث ہوں گے اور ان کی وجہ سے لوگوں میں جنگ وجدال اور قتل و غارت ہو گی۔
2۔
امت سے مراد قیامت تک ہونے والے لوگ نہیں بلکہ اس وقت موجود یا قرب وجوار کے لوگ مراد ہیں۔
3۔
بعض لوگوں نے مروان کو بھی اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا ہے حالانکہ ایک روایت میں ہے کہ جب مروان نے یہ حدیث سنی تو کہنے لگے۔
ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7058)
اسی روایت میں کچھ اضافہ یوں ہے کہ راوی حدیث عمرو بن یحییٰ نے کہا: میں اپنے دادا کے ہمراہ مروان کے پاس گیا جبکہ وہ ملک شام پر قابض ہو چکے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نوجوان لڑکے تھے جو منصب حکومت پر برا جمان ہیں انھوں نے ہمیں فرمایا ممکن ہے کہ یہی اس حدیث کا مصداق ہوں۔
ہم نے کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7058)
ممکن ہے کہ حدیث میں(غِلْمَةُ)
سے مراد بنو امیہ کے نوجوان ہوں کیونکہ شہادت عثمان ؓ کے بعد بنو امیہ کے ہاتھوں بہت سے مسلمان مارے گئے بہر حال اس حدیث میں بھی امور مستقبلہ کی خبر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جو خبر دی اس کےمطابق ہی ہوا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
1۔
ہلاکت سے مراد یہ ہے کہ بنو امیہ کے جوان ایسے کام کرنے لگیں گے جو لوگوں کی ہلاکت کا باعث ہوں گے اور ان کی وجہ سے لوگوں میں جنگ وجدال اور قتل و غارت ہو گی۔
2۔
امت سے مراد قیامت تک ہونے والے لوگ نہیں بلکہ اس وقت موجود یا قرب وجوار کے لوگ مراد ہیں۔
3۔
بعض لوگوں نے مروان کو بھی اس حدیث کا مصداق ٹھہرایا ہے حالانکہ ایک روایت میں ہے کہ جب مروان نے یہ حدیث سنی تو کہنے لگے۔
ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7058)
اسی روایت میں کچھ اضافہ یوں ہے کہ راوی حدیث عمرو بن یحییٰ نے کہا: میں اپنے دادا کے ہمراہ مروان کے پاس گیا جبکہ وہ ملک شام پر قابض ہو چکے تھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ نوجوان لڑکے تھے جو منصب حکومت پر برا جمان ہیں انھوں نے ہمیں فرمایا ممکن ہے کہ یہی اس حدیث کا مصداق ہوں۔
ہم نے کہا آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔
(صحیح البخاري، الفتن، حدیث: 7058)
ممکن ہے کہ حدیث میں(غِلْمَةُ)
سے مراد بنو امیہ کے نوجوان ہوں کیونکہ شہادت عثمان ؓ کے بعد بنو امیہ کے ہاتھوں بہت سے مسلمان مارے گئے بہر حال اس حدیث میں بھی امور مستقبلہ کی خبر ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے جو خبر دی اس کےمطابق ہی ہوا جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3605 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7058 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7058. حضرت عمرو بن یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے دادا نے بتایا کہ میں مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کی مسجد میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے صادق ومصدوق ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی۔“ مروان نے کہا: ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اگر میں ان کے خاندان سمیت ان کے نام بتانا چاہوں تو ان کی نشاندہی کر سکتا ہوں۔ پھر جب بنو مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنےدادا کے ہمراہ ان کی طرف جاتا تھا، انہوں نے جب وہاں ان کے چھوکروں کو دیکھا تو کہا: شاید یہ انھی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا: ان کے متعلق تو آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7058]
حدیث حاشیہ: انہوں نے نام بنام ظالم حاکموں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے تھے مگر ڈر کی وجہ سے بیان نہیں کر سکتے تھے۔
قسطلانی نے کہا اس بلا سے مراد وہ اختلاف ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اخیر خلافت میں ہوا یا وہ جنگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہوئی۔
ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نکالا ہے کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں چھوکروں کی حکومت سے۔
اگر تم ان کا کہنا مانو تو دین کی تباہی ہے اور اگر نہ مانو تو وہ تم کو تباہ کر دیں۔
قسطلانی نے کہا اس بلا سے مراد وہ اختلاف ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اخیر خلافت میں ہوا یا وہ جنگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہوئی۔
ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً نکالا ہے کہ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں چھوکروں کی حکومت سے۔
اگر تم ان کا کہنا مانو تو دین کی تباہی ہے اور اگر نہ مانو تو وہ تم کو تباہ کر دیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7058 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7058 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7058. حضرت عمرو بن یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے میرے دادا نے بتایا کہ میں مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کی مسجد میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں نے صادق ومصدوق ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی۔“ مروان نے کہا: ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا: اگر میں ان کے خاندان سمیت ان کے نام بتانا چاہوں تو ان کی نشاندہی کر سکتا ہوں۔ پھر جب بنو مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنےدادا کے ہمراہ ان کی طرف جاتا تھا، انہوں نے جب وہاں ان کے چھوکروں کو دیکھا تو کہا: شاید یہ انھی میں سے ہوں۔ ہم نے کہا: ان کے متعلق تو آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7058]
حدیث حاشیہ:
1۔
حکومتی معاملات چلانے کے لیے جہاں وسیع تجربے،عقل وبصیرت اور وسیع علم کی ضرورت ہے وہاں بردباری اور بڑے حوصلے کی بھی ضرورت ہے۔
لیکن جب کم عقل،جاہل،ناتجربہ کاراور جذباتی قسم کے کھلنڈرے حکومت پر قابض ہوجائیں تو وہاں تباہی یقینی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی امر کی نشاندہی کی ہے کہ میری اُمت کی ہلاکت قریش کے بے وقوف چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی جیسا کہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میری اُمت کی تباہی قریش کے بےوقوف کم عقل چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی۔
" (مسند أحمد: 45/2)
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس سے مراد حکمرانوں کا جسمانی طور پر نابالغ ہونا نہیں بلکہ عقلی طور پر ناپختہ کار، دینی اعتبار سے نااہل اور حکومت کے لحاظ سے نالائق لوگ مراد ہیں جیسا کہ امت سے مراد اس وقت کے لوگ یا اس کے قرب وجوار کے لوگ ہیں، نیز ہلاکت سے مراد بھی اخلاقی بربادی ہے۔
(فتح الباري: 13/13)
ابن بطال نے کہا ہے کہ ہلاکت کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
لوگوں نے کہا: اس سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا کہ اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تمہارے دین کی تباہی اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمھیں تباہ کر دیں گے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ ایسے حالات میں بغاوت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ تباہی کا راستہ ہے، البتہ کلمہ حق کہنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 3191 والمصنف لابن أبي شیبة: 49/5، رقم: 19082 وفتح الباري: 14/13)
1۔
حکومتی معاملات چلانے کے لیے جہاں وسیع تجربے،عقل وبصیرت اور وسیع علم کی ضرورت ہے وہاں بردباری اور بڑے حوصلے کی بھی ضرورت ہے۔
لیکن جب کم عقل،جاہل،ناتجربہ کاراور جذباتی قسم کے کھلنڈرے حکومت پر قابض ہوجائیں تو وہاں تباہی یقینی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی امر کی نشاندہی کی ہے کہ میری اُمت کی ہلاکت قریش کے بے وقوف چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی جیسا کہ ایک روایت میں اس کی وضاحت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " میری اُمت کی تباہی قریش کے بےوقوف کم عقل چھوکروں کے ہاتھوں سے ہوگی۔
" (مسند أحمد: 45/2)
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اس سے مراد حکمرانوں کا جسمانی طور پر نابالغ ہونا نہیں بلکہ عقلی طور پر ناپختہ کار، دینی اعتبار سے نااہل اور حکومت کے لحاظ سے نالائق لوگ مراد ہیں جیسا کہ امت سے مراد اس وقت کے لوگ یا اس کے قرب وجوار کے لوگ ہیں، نیز ہلاکت سے مراد بھی اخلاقی بربادی ہے۔
(فتح الباري: 13/13)
ابن بطال نے کہا ہے کہ ہلاکت کی وضاحت ایک دوسری حدیث میں ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: میں بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔
لوگوں نے کہا: اس سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا کہ اگر تم ان کا کہا مانو گے تو تمہارے دین کی تباہی اور اگر تم ان کی نافرمانی کرو گے تو وہ تمھیں تباہ کر دیں گے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقصد یہ تھا کہ ایسے حالات میں بغاوت کرنا جائز نہیں کیونکہ یہ تباہی کا راستہ ہے، البتہ کلمہ حق کہنے میں کوتاہی نہ کی جائے۔
(سلسلة الأحادیث الصحیحة، رقم: 3191 والمصنف لابن أبي شیبة: 49/5، رقم: 19082 وفتح الباري: 14/13)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7058 سے ماخوذ ہے۔