حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمُحَامِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ الْمَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُحَمَّدُ ، إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ يَقْتَتِلُونَ عَلَى الدُّنْيَا فَاعْمِدْ بِسَيْفِكَ إِلَى أَعْظَمِ صَخْرَةٍ فِي الْحَرَمِ فَاضْرِبْهُ بِهَا حَتَّى يَنْكَسِرَ ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ أَوْ مَنِيَّةٌ قَاضِيَةٌ ، فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، إِلا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے محمد! جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ دنیا پر لڑ رہے ہیں تو تو اپنی تلوار کو لے کر حرم کے کسی مضبوط پتھر پر مار تاکہ وہ ٹوٹ جائے، پھر اپنے گھر میں بیٹھ جا، یہاں تک کہ خطا کار ہاتھ تیری طرف آجائے، یا فیصلہ کن موت آجائے۔“ تو میں نے وہی کام کیا جس کا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3962 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´فتنے کے وقت تحقیق کرنے اور حق پر جمے رہنے کا بیان۔`
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت جلد ایک فتنہ ہو گا، فرقہ بندی ہو گی اور اختلاف ہو گا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آ جائے جو تمہارا کام تمام کر دے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتنہ آ گیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3962]
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بہت جلد ایک فتنہ ہو گا، فرقہ بندی ہو گی اور اختلاف ہو گا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آ جائے جو تمہارا کام تمام کر دے۔“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ فتنہ آ گیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3962]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمانوں کا اسلحہ کفار کے خلاف کام آنا چاہیے جب وہ مسلمان کے خلاف چلنے لگے تو اس کا تباہ ہوجانا بہتر ہے۔
(2)
گناہ گار ہاتھ کا مطلب ہے کہ کسی مفسد کا نشانہ بن جاؤ اور مظلومانہ شہادت پالو یا طبعی موت کی وجہ سے ان جھمیلوں سے چھوٹ جاؤ۔
فوائد و مسائل:
(1)
مسلمانوں کا اسلحہ کفار کے خلاف کام آنا چاہیے جب وہ مسلمان کے خلاف چلنے لگے تو اس کا تباہ ہوجانا بہتر ہے۔
(2)
گناہ گار ہاتھ کا مطلب ہے کہ کسی مفسد کا نشانہ بن جاؤ اور مظلومانہ شہادت پالو یا طبعی موت کی وجہ سے ان جھمیلوں سے چھوٹ جاؤ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3962 سے ماخوذ ہے۔