حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ الْفَقِيهُ قَلَنْسُوَةُ ، بِمِصْرَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَوَدُّ أَهْلُ الْعَافِيَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ لُحُومَهُمْ قَدْ قُرِضَتْ بِالْمَقَارِيضِ لِمَا يَرَوْنَهُ لأَهْلِ الْبَلاءِ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الأَعْمَشِ ، إِلا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں تندرست رہنے والے قیامت کے دن یہ پسند کریں گے کہ ان کے گوشت قینچیوں سے کاٹے جائیں، کیونکہ وہ دنیا میں مصائب زدوں کو بہت بڑے ثواب میں دیکھیں گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2402 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نابینا کی فضیلت کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا جن کی دنیا میں آزمائش ہوئی تھی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2402]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا جن کی دنیا میں آزمائش ہوئی تھی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2402]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ دنیاوی ابتلاء وآزمائش کا کس قدرعظیم ثواب ہے کہ قیامت کے دن عافیت اورامن وامان میں رہنے والے لوگ اس عظیم ثواب کی تمنا کریں گے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہواکہ دنیاوی ابتلاء وآزمائش کا کس قدرعظیم ثواب ہے کہ قیامت کے دن عافیت اورامن وامان میں رہنے والے لوگ اس عظیم ثواب کی تمنا کریں گے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2402 سے ماخوذ ہے۔