حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ قَيْسٍ الرَّحْبِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "لا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ خَمْسَةٍ : عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ ، وَشَبَابِهِ فِيمَا أَبْلاهُ ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَ أُنْفِقَهُ ، وَعَنْ مَا عَمِلَ فِيمَا عَلِمَ "، لا يُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن کسی آدمی کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں سے متعلق نہ پوچھا جائے: عمر کے متعلق کہ کہاں فنا کی؟ اپنی جوانی کہاں بوسیدہ کی؟ مال کہاں سے کمایا؟ اور کہاں خرچ کیا؟ اور جو کچھ جانتا تھا اس کے مطابق کیا عمل کیا؟“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب صفة القيامة / حدیث: 756
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، أخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2416، 2417 ، قال الشيخ الألباني: حسن ، الصحيحة 946، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5271، والطبراني فى«الكبير» برقم: 9772، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7576، والطبراني فى «الصغير» برقم: 760، والبزار فى «مسنده» برقم: 1435»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2416

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2416 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قیامت کے دن حساب اور بدلے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا پاؤں قیامت کے دن اس کے رب کے پاس سے نہیں ہٹے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ لیا جائے: اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کس چیز میں خرچ کیا اور اس کے علم کے سلسلے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2416]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث کے مطابق جن چیزوں سے متعلق استفسار ہوگا ان میں سب سے پہلے اس زندگی کے بارے میں سوال ہوگا جس کا ایک ایک لمحہ بہت قیمتی ہے، اس لیے اسے حیات مستعار سمجھتے ہوئے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں گزار نا چاہیے، کیوں کہ اس کا حساب دینا ہے، جوانی میں انسان اپنے آپ کو محرمات سے بچائے، اس میں کوتاہی کرنے کی صورت میں اللہ کی گرفت سے بچنا مشکل ہوگا، اسی طرح مال کے سلسلہ میں اسے کماتے اور خرچ کرتے وقت دونوں صورتوں میں اللہ کاڈر دامن گیر رہے، علم کے مطابق عمل کی بابت سوال ہوگا، اس سے معلوم ہواکہ دین وشریعت کا علم حاصل کرے، کیوں کہ یہی اس کے لیے مفیداورنفع بخش ہے۔

نوٹ:
(سند میں حسین بن قیس ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھیے: الصحیحة رقم: 946)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2416 سے ماخوذ ہے۔