حدیث نمبر: 750
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْحَمْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ الرُّوَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : قُولُوا حَسْبُنَا اللَّهُ ، وَنِعْمَ الْوَكِيلُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، إِلا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَلا رَوَاهُ عَنْ سُفْيَانَ ، إِلا زُهَيْرٌ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیسے بے غم ہو سکتا ہوں حالانکہ اسرافیل علیہ السلام قرن میں پھونکنے والے اسے منہ میں ڈالے اور پیشانی جھکائے انتظار کر رہے ہیں کہ کب اسے حکم ہوتا ہے اور وہ اس میں پھونکیں۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یوں کہو: «حسبنا اللہ ونعم الوکیل» اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب صفة القيامة / حدیث: 750
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 823، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 8775، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2431، 3243، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4273، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11196، والحميدي فى «مسنده» برقم: 771، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 2000، والطبراني فى «الصغير» برقم: 45، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 544»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2431 | سنن ترمذي: 3243 | سنن ابن ماجه: 4273 | مسند الحميدي: 771

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3243 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جب کہ صور پھونکنے والا صور کو منہ سے لگائے ہوئے اپنا رخ اسی کی طرف کئے ہوئے ہے، اسی کی طرف کان لگائے ہوئے ہے، انتظار میں ہے کہ اسے صور پھونکنے کا حکم دیا جائے تو وہ فوراً صور پھونک دے، مسلمانوں نے کہا: ہم (ایسے موقعوں پر) کیا کہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل توكلنا على الله ربنا وربما» ہمیں اللہ کافی ہے اور کیا ہی اچھا کارساز ہے، ہم نے اپنے رب اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے راوی کہتے ہیں: کبھی کبھی سفیان نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3243]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
مؤلف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الأَرْضِ﴾ (الزمر: 68) کی تفسیرمیں ذکرکی ہے۔

نوٹ:
(سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3243 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2431 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صور کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے آرام کروں جب کہ صور والے اسرافیل علیہ السلام «صور» کو منہ میں لیے ہوئے اس حکم پر کان لگائے ہوئے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم صادر ہو اور اس میں پھونک ماری جائے، گویا یہ امر صحابہ کرام رضی الله عنہم پر سخت گزرا، تو آپ نے فرمایا: کہو: «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» یعنی اللہ ہمارے لیے کافی ہے کیا ہی اچھا کار ساز ہے وہ اللہ ہی پر ہم نے توکل کیا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2431]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الصحیحة رقم: 1079)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2431 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4273 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حشر کا بیان۔`
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک «صور» والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں «صور» ۱؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4273]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
صور(نرسنگا)
ایک قسم کا بگل ہوتا تھا۔
جو کسی جانور کے سینگ سے بنایا جاتا تھا۔

(2)
مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم قرآن مجید میں صور پھونکنے کی بابت یہ ارشاد الٰہی ہے۔
جس کامفہوم یہ ہے۔
’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔
تو جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے۔
وہ بے ہوش ہوجائے گا۔
سوائے اس کے جسے اللہ چاہے۔
پھر اس میں دوسری بار پھونکا جائے گا۔
تو وہ یکایک کھڑے ہوکردیکھنے لگیں گے۔‘‘ (الزمر: 39، 68)

(3)
صور کی حقیقت وکیفیت سے اللہ ہی باخبر ہے۔
ہمیں جتنی بات بتائی گئی ہے اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4273 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 771 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
771- سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں نعمتوں سے کیسے لطف اندوز ہوسکتا ہوں؟ جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا ہوا ہے۔ اس کی پیشانی چمکی ہوئی ہے، اور اس نے اپنی سماعت کو متوجہ رکھا ہوا ہے، اور وہ اس بات کا انتظار کررہا ہے، اسے کب حکم ہوگا؟ (کہ وہ صور میں پھونک ماردے) لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ پڑھا کرو۔ «حسبنا الله ونعم الوكيل على الله توكلنا» ہمارے لیے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:771]
فائدہ:
اس سے ثابت ہوا کہ صور کا پھونکا جاناحق ہے، جس فرشتے نے صور پھونکنا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے انتظار میں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ﴾ (الانعام 73)
جس دن صور میں پھونکا جائے گا۔
ہمارا ایمان ہے کہ صور میں دو بار پھونکا جائے گا پہلی بار پھونکے جانے سے تمام زندہ لوگ فوت ہو جائیں گے۔ دوسری بار پھونکے جانے سے تمام مردہ زندہ ہو جائیں گے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 771 سے ماخوذ ہے۔