حدیث نمبر: 745
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرِّفَاعِيُّ الأَصْبَهَانِيُّ ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ الضَّبِّيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الأَحْوَصُ بْنُ جَوَابٍ ، حَدَّثَنَا سُعَيْرُ بْنُ الْخِمْسِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ ، فَقَالَ لِفَاعِلِهِ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَاءِ "
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ کوئی شخص نیکی کرے تو اگر وہ یوں کہہ دے: «جزاک اللہ خیرا» تو اس نے پوری پوری تعریف کر دی۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 745
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3413، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9937، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2035، قال الشيخ الألباني: صحيح ، والبزار فى «مسنده» برقم: 2601، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1183، والضياء المقدسي فى «الأحاديث المختارة» برقم: 1321، 1322»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2035 | بلوغ المرام: 1179

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2035 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´احسان کے بدلے تعریف کرنے کا بیان۔`
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی گئی اور اس نے بھلائی کرنے والے سے «جزاك الله خيراً» " اللہ تعالیٰ تم کو بہتر بدلا دے " کہا، اس نے اس کی پوری پوری تعریف کر دی " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 2035]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کسی پرا حسان کیاگیا ہو، اس نے اپنے محسن کے لیے (جزاك الله خيرا) کہا تو اس احسان کا اس نے پوراپورا شکریہ ادا کردیا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2035 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1179 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(قسموں اور نذروں کے متعلق احادیث)`
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس کسی سے نیکی اور اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ اس کرنے والے سے کہے کہ «جزاك الله خيرا» اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے تو اس نے اس کا پورا حق شکریہ ادا کر دیا۔ " اس کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1179»
تخریج:
«أخرجه الترمذي، البر والصلة، باب ما جاء في الثناء بالمعروف، حديث:2035، وقال: حسن، وابن حبان (الإحسان):5 /174، حديث:3404.»
تشریح: سبل السلام میں ہے کہ اس حدیث کو یہاں ذکر کرنا کِتَابُ الْأَیْمَانِ وَالنُّذُور کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں رکھتا۔
دراصل اس کا محل کتاب الجامع ‘ باب الأدب ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1179 سے ماخوذ ہے۔