حدیث نمبر: 735
حَدَّثَنَا وَاثِلَةُ بْنُ الْحَسَنِ الْعُرُقِيُّ ، بِمَدِينَةِ عُرُقَةَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَن ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى إِنْفَاذِهِ خَيَّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ أَنْكَحَ عَبْدًا وَضَعَ اللَّهُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجَ الْمُلْكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَدْهَمَ ، إِلا بَقِيَّةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غصہ پی لیا جب کہ وہ استعمال اور نافذ کرنے پر بھی قادر ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن حور عین میں سے پسند کرنے کا اختیار دے گا۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 735
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 206، 7465، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4777، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2021، 2481، 2493، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4186، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6184، 16742، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15859، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 9256، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1112، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1484 ¤قال الهيثمي: فيه بقية وهو مدلس ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (4 / 275)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2021 | سنن ترمذي: 2493 | سنن ابي داود: 4777 | سنن ابن ماجه: 4186

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4777 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غصہ پی جانے والے کی فضیلت کا بیان۔`
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4777]
فوائد ومسائل:
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے()(آلِ عمران:134) کے الفاظ سے غصہ پی جانے کو اہلِ ایمان کی اہم صفات میں شمار کیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4777 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4186 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حلم اور بردباری کا بیان۔`
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غصے پر قابو پا لیا اس حال میں کہ وہ اس کے کر گزرنے پر قادر تھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا، اور اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے اپنے لیے چن لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4186]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اپنے سے کمزور پر غصہ آئے تو اسے قابو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اصل بہادری یہی ہے کہ ایسے موقع پر غصہ نکالنے کے بجائے معاف کردیا جائے۔

(2)
بعض نیکیوں کے لیے اللہ تعالی نے خاص انعامات مقرر کیے ہوئے ہیں۔
ان انعامات کے حصول کی کوشش کرنا مستحسن ہے۔

(3)
حوریں اللہ تعالی کی خاص مخلوق ہیں جو اللہ تعالی نے اہل جنت کے لیے پیدا کی ہیں۔

(4)
ہر جنتی کو حوریں ملیں گی لیکن غصے کو قابو پا کر ظلم سے اجتناب کرنے کی جزا کے طور پر خاص انعام دیا جائے گا۔
ایسے جنتی کو اپنی پسند کی حوریں منتخب کرنے کا حق دیا جائے گا۔

(5)
جنت کی نعمتوں اور جہنم کے عذابوں کا تعلق صرف روح سے نہیں جسم سے بھی ہے کیونکہ دنیا میں نیکی یا گناہ کرنے میں جسم اور روح دونوں شریک ہیں اس لیے آخرت میں ثواب و سزا جسمانی بھی ہوگا اور روحانی بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4186 سے ماخوذ ہے۔