حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ أَبُو عِمْرَانَ بِالْبَصْرَةِ ، حَدَّثَنَا نَهَارُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ ، عَنْ شِبْلِ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، "أَبْصَرَ رَجُلا ثَائِرَ الرَّأْسِ ، فَقَالَ : لِمَ يُشَوِّهْ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ ؟ ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ أَيْ يَأْخُذُ مِنْهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، إِلا شِبْلٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ مَسْعَدَةُ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی پراگندہ بالوں والا دیکھا تو فرمایا: ”تم میں کوئی آدمی اپنی حالت کو کیوں بدشکل بنا دیتا ہے“، پھر ہاتھ سے اشارہ فرمایا یعنی سر کے بال کاٹ کر درست کیوں نہیں کرتے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 732
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5483، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7473، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5238 ، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 9261، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4062، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15079، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2026، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6210، 8290، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1079 ¤قال الهيثمي: وفيه شيخه موسى بن زكريا التستري وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (5 / 164) برقم: 8829»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5238

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5238 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´بالوں کو سنوارنے اور درست رکھنے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کیا اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس سے اپنے بال ٹھیک رکھ سکے؟۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5238]
اردو حاشہ: 1۔ مقصد یہ ہے کہ جب کوئی شخص لمبے بال اور زلفیں رکھے تو اسے چاہیے کہ ان کی عزت کرے، یعنی انہیں سنوار کر رکھے، تیل لگائے اور کنگھی کرے، نیز انہیں پراگندہ ہونے سے محفوظ رکھے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: [مَن كان له شَعَرٌ، فَلْيُكرِمْهُ] جس شخص نے بال رکھے ہوں تو اسے چاہیے کہ ان کی عزت کرے، یعنی انہیں بنا سنوار کر رکھے۔ (سنن أبي داؤد، الترجل، باب فی اصلاح الشعر، حدیث: 4163، وقال الألباني حسن صحیح) بالوں کی عزت یعنی انہیں سنوارنے کا یہ مفہوم قطعاً نہیں کہ ایک شیشہ اور کنگھی ہمیشہ جیب کی زینت بنی رہے۔ اس حوالے سے کچھ روایات بھی منقول ہیں لیکن وہ درجہ صحت کو نہیں پہنچیں۔ ہاں بوقت ضرورت ان کا خیال کیا جائے، اور اس کی حد ایک دن چھوڑ کر کنگھی کرنا ہے بلا ناغہ ٹیپ ٹاپ کی ممانعت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [أن رسولُ اللهِ ﷺ نهى عن الترجُّلِ إلّا غِبًّا] (سنن أبي داؤد، الترجل، باب النهى عن كثير من الإرفاء، حدیث: 4159) رسول اکرم ﷺ نے ہمیں روزانہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا۔
(2) میلا کچیلا رہنا اور بالوں کو نہ سنوارنا زہد ہے نہ سادگی بلکہ یہ حماقت اور جہالت ہے، جو کسی بھی طرح ایک باوقار اور قابل احترام مسلمان کے لائق نہیں۔ اسلام انتہائی صاف ستھرا اور پاکیزہ دین ہے اور اپنے پیروکاروں سے بھی پاکیزگی اور صاف ستھرائی کا تقاضا کرتا ہے۔ مزید برآں رسول کریم ﷺ کاارشاد گرامی ہے: [إنَّ اللهَ جميلٌ يُحِبُّ الجمالَ] بلاشبہ اللہ تعالیٰ حسین و جمیل ہے اور حسن و جمال کو پسند فرماتا ہے۔ (مسند أحمد: 4/ 133،134)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5238 سے ماخوذ ہے۔