مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ أَبُو عُمَرَ الْقَاضِي ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمُ الْقَوْمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَتْ لَهُ حَاجَةٌ وَأَرَادَ الْقِيَامَ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتِ الأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الآخِرَةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هِشَامٍ ، إِلا عَبْدُ الْقَاهِرِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، وَعَنْ أَبِيهِ ، إِلا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، وَابْنُ جُرَيْحٍ ، وَبَكْرُ بْنُ وَائِلٍ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَأَصْحَابُ ابْنُ عَجْلان ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کچھ لوگوں کے پاس جائے اور وہ بیٹھے ہوئے ہوں تو انہیں سلام کہے، پھر اگر اسے کوئی کام پڑ جائے اور وہ اٹھنا چاہے تو سلام کہے، کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ ضروری نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 727
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2706 | سنن ابي داود: 5208 | معجم صغير للطبراني: 682 | معجم صغير للطبراني: 728 | مسند الحميدي: 1196

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2706 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مجلس میں بیٹھتے اور اس سے اٹھتے وقت سلام کرنا۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، پھر اگر اس کا دل بیٹھنے کو چاہے تو بیٹھ جائے۔ پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو سلام کرے۔ پہلا (سلام) دوسرے (سلام) سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2706]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی دونوں سلام کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2706 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5208 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مجلس سے اٹھ کر جاتے وقت سلام کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے (بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے)۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5208]
فوائد ومسائل:
مجلس میں پہنچنے اور واپس جانے پر دونوں بار سلام کہنا واجب ہے۔
یہ نہیں کہ پہلی بار تو واجب ہو اور واپسی کے وقت کوئی لازم نہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5208 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1196 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1196- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا پتہ چلا ہے: جب تم کچھ بیٹھے ہوئے افرا د کے پاس جاؤ تو انہیں سلام کرو جب تم اٹھو، تو پھر انہیں سلام کرو کیونکہ پہلے والا دوسرے والے کے مقابلے میں زیادہ حق نہیں رکھتا۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1196]
فائدہ:
اس حدیث سے السلام علیکم کہنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ جب آپ ایک مجلس میں جائیں تو بھی السلام علیکم کہیں اور جب واپس اٹھیں پھر بھی السلام علیکم کہیں، جس طرح مجلس میں جاتے وقت سلام کہنا ثواب ہے، اسی طرح مجلس سے اٹھتے وقت بھی سلام کہنے کا ثواب ہے، ان دونوں وقتوں میں سلام کہنے سے سستی نہیں کرنی چاہیے بعض لوگ جب مجلس میں جاتے ہیں تو سلام کہتے ہیں لیکن جب واپس آتے ہیں تو سلام نہیں کہتے جو کہ درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1194 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔