حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرَانَ الدِّرْهَمِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، "أَنَّ رَجُلا لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : لا تَلْعَنْهَا ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ ، وَإِنَّ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ إِلَيْهِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ قَتَادَةَ ، إِلا أَبَانُ ، وَلا عَنْ أَبَانَ ، إِلا بِشْرٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوا کو لعنت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ تو اللہ کی طرف سے محکوم ہے، اور جو شخص کسی ایسی چیز کو لعنت کرے جو اس کی اہل نہ ہو تو وہ لعنت اس لعنت کرنے والے کی طرف واپس آجاتی ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الادب / حدیث: 722
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4908، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1978 ، قال الشيخ الألباني: صحيح ، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5745، والطبراني فى«الكبير» برقم: 12757، والطبراني فى «الصغير» برقم: 957، والبزار فى «مسنده» برقم: 5330»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1978 | سنن ابي داود: 4908

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4908 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´لعنت کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4908]
فوائد ومسائل:
اس روایت کو بھی بعض نے صحیح کہا ہے، لہذا اللہ کی مخلوق پر لعنت کرنا جائز نہیں سوائے ان کے جن پر اللہ نے اور اس کے رسول ﷺ نے لعنت کی۔
مثلاَ کافرین، ظالمین، کاذبین وغیرہ۔
جیسے کہ دُعائے قنوت نازلہ میں ہے: (اللَّهُمَّ الْعَنِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ) اے اللہ اُن کا فروں پر لعنت فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔
تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4908 سے ماخوذ ہے۔