معجم صغير للطبراني
كتاب الادب— ادب کا بیان
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسندیدہ اور ناپسندیدہ لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ جَابِرٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاقًا ، الْمُوَطَّئُونَ أَكْنَافًا ، الَّذِينَ يَأْلَفُونَ وَيُؤْلَفُونَ ، وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ الْمَشَّاءُونَ بِالنَّمِيمَةِ ، الْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الأَحِبَّةِ ، الْمُلْتَمِسُونَ لِلْبُرَآءِ الْعَنَتَ ، الْعَيْبَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، إِلا صَالِحٌ الْمُرِّيُّترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب وہ لوگ ہیں جو اخلاق میں سب سے اچھے ہوں، اور نرم پہلو رکھنے والے جو دوسروں سے الفت رکھتے ہیں اور ان سے بھی الفت رکھی جاتی ہے، اور تم میں میری طرف سب سے برے لوگ وہ ہیں جو چغلیاں کھاتے ہیں، دوستوں میں جدائی ڈال دیتے ہیں، اور پاک دامن لوگوں کے عیب تلاش کرتے ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4682 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایمان کی کمی اور زیادتی کے دلائل کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4682]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو ان میں سب سے بہتر اخلاق والا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4682]
فوائد ومسائل:
(أخلاق‘خلق) کی جمع ہے خا اور لام كے پیش کے ساتھ۔
اور اس سے مراد انسان کی عادات اور اعمال ہیں، عمدہ عادات کو ایمان کا کمال کہا گیا ہے۔
جس شخص کی عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات غلط ہوں وہ اتنا ہی ایمان میں ناقص ہوتا ہے۔
(أخلاق‘خلق) کی جمع ہے خا اور لام كے پیش کے ساتھ۔
اور اس سے مراد انسان کی عادات اور اعمال ہیں، عمدہ عادات کو ایمان کا کمال کہا گیا ہے۔
جس شخص کی عادات اور دوسروں کے ساتھ معاملات غلط ہوں وہ اتنا ہی ایمان میں ناقص ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4682 سے ماخوذ ہے۔